ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 193

خدا تعالیٰ کی جو شکل اور صفات پیش کرتے ہیں وہ سب کی سب درست ہوں۔عیسائی، ہندو، چینی ہرایک جدا جدا صفات پیش کرتا ہے پھر کون عقلمند یہ مان لے گا کہ ہر ایک اپنے اپنے بیان میں سچا ہے۔سچے مذہب کی علامات ماسوا اس کے سچائی کے خود انوار اور برکات ہوتے ہیں۔یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ وہ نشانات اور انوار و برکات کس خدا کو مان کر ملتے ہیں اور کس دین میں وہ پائے جاتے ہیں۔ایک شخص ایک نسخہ کو استعمال کرتا ہے اگر اس نسخہ میں کوئی خوبی اور اثر ہے تو صاف ظاہر ہے کہ چند روز کے استعمال کے بعد ہی اس کی مفید تاثیریں معلوم ہونے لگیں گی۔لیکن اگر اس میں کوئی خوبی اور تاثیر نہیں ہے تو خواہ ساری عمر اسے استعمال کرتے جاؤ کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔اس معیار پر اسلام اور دوسرے مذاہب کی سچائی اور حقیت کا بہت جلد پتہ لگ جاتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی تاثیر اور انوار و برکات کے لیے کسی گذشتہ قصہ کا حوالہ نہیں دیتا اور نہ صرف آئندہ کے وعدہ ہی پر رکھتا ہے بلکہ اس کے پھل اور آثار ہروقت اور ہر زمانے میں پائے جاتے ہیں اور اسی دنیا میں ایک سچا مسلمان ان ثمرات کو کھا لیتا ہے۔بتلاؤ ایسے مذاہب انسان کو کیا امید دلا سکتے ہیں جن میں توبہ تک منظور نہیں۔ایک گنہ کر کے جب تک کروڑوں جونیں نصیب نہ ہولیں خدا سے صلح ہی نہیں ہو سکتی وہاں انسان کیا پائے گا۔اس کی روح کو راحت اور تسلّی کیونکر مل سکے گی؟ مذہب کی سچائی کی بڑی علامت یہ ہے کہ اس راہ سے دور افتادہ خدا کے نزدیک آجاتا ہے۔جیسے جیسے وہ نیک عمل کرتا جاوے۔اسی اسی قدر تاریکی دور ہوکر معرفت اور روشنی آتی جاوے اور انسان خود محسوس کر لے کہ وہ نجات کی ایک یقینی راہ پر جا رہا ہے۔اس کی ہدایتیں ایسی صاف اور واضح ہوں کہ انسان ان کے ماننے اور اس پر عمل کرنے میں اٹکے نہیں۔بھلا یہ بھی کوئی تعلیم اور اصول ہے کہ ذرّہ ذرّہ کو خدا قرار دے دیا جاوے جیسے خدا ازلی ابدی ہے۔اسی طرح پر ذرّاتِ عالَم اور ارواح کو بھی ازلی ابدی تسلیم کیا جاوے؟ اگر ایسا کوئی خدا ہے کہ جس نے ایک ذرہ بھی کسی قسم کا پیدا نہیں کیا تو اس پر بھروسہ کیسا؟ اور اس کا ہم پر حق کیا ہے جو عبادت کریں؟ کیونکہ عبادت کے لیے حق بھی تو ہونا چاہیے جب کوئی حق ہی نہ ہو تو ایک ذرّہ ذرّہ