ملفوظات (جلد 7) — Page 186
گا۔مگر میرا ارادہ ہے کہ باہر جاکر علیحدگی میں نماز پڑھوں اور دعا کروں۔خلوت میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرنے اور دعا مانگنے کا جو لُطف ہے وہ لوگوں میں بیٹھ کر نہیں ہے۔اور بھی دعاؤں کا ذخیرہ ہے۔اسی مطلب کے واسطے میں نے باغ میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی ہے جس کو مسجد البیت کہنا چاہیے۔فرمایا۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات دو رنگ کے تھے۔ایک ظاہر اور ایک مخفی۔آپ کی پہلی عبادت وہی تھی جو آپ نے غارِ حرا میں کی۔جہاں کئی کئی دن ویرانہ پہاڑی کی غار میں جہاں ہر طرح کے جنگلی جانور اور سانپ چیتے وغیرہ کا خوف ہے دن رات اللہ تعالیٰ کے حضور میں عبادت کرتے تھے اور دعائیں مانگتے تھے۔قاعدہ ہے کہ جب ایک طرف کی کشش بہت بڑھ جاتی ہے تو دوسری طرف کا خوف دل سے دور ہو جاتا ہے۔بعض عورتوں کو جو بہت ہی ڈرنے والی طبیعت کی ہیں دیکھا گیا ہے کہ کسی بچے کی بیماری کے وقت اندھیری راتوں میں ضرورتاً ایسی جگہ جاتی ہیں جہاں دن کو نکلنا ان کے واسطے دشوار ہے۔ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ زلزلہ کے وقت خوف سے اونچے مکان سے نیچے کودنے لگا۔لوگوں نے پکڑ لیا۔جب خوف الٰہی اور محبت غالب آتی ہے تو باقی تمام خوف اور محبتیں زائل ہوجاتی ہیں ایسی دعا کے واسطے علیحدگی بھی ضروری ہے۔اسی پورے تعلق کے ساتھ انوار ظاہر ہوتے ہیں اور ہر ایک تعلق ایک ستر کو چاہتا ہے۔ایک ہی خواہش فرمایا۔آجکل حبس اور گرمی اور برسات کی کمی کسی امر کی تمہید ہے جو آگے ظاہر ہوگا۔معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ہم تو چاہتے ہیں کہ ہر چہ بادا باد۔مگر خدا کی ہستی دنیا پر ثابت ہو جائے اور دین اسلام کی حقیقت ظاہر ہوجائے خواہ کسی طرح سے ہو۔وفاتِ مسیح اجماعی مسئلہ ہے ایک شخص نے سوال کیا کہ اسلامی کتب میں حیات مسیح کی بات کہاں سے آگئی؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بات ایسی ہی ہے جیسا کہ ہند کے مسلمان رسوم شادی و مرگ اب تک پرانے ہندوؤں کی