ملفوظات (جلد 7) — Page 180
غار حرا میں جا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کیسا عجیب زمانہ ہوگا۔آپ ہی ایک پانی کا مشکیزہ اٹھا کر لے جایا کرتے ہوں گے۔انبیاء کی خلوت پسندی اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس اور ذوق پیداہو جاتا ہے تو پھر دنیا اور اہل دنیا سے ایک نفرت اور کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی حالت تھی۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قدر فنا ہو چکے تھے کہ آپ اس تنہائی میں ہی پوری لذّت اور ذوق پاتے تھے۔ایسی جگہ میں جہاں کوئی آرام اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو آپ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گذارتے تھے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے بہادر اور شجاع تھے۔جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو تو پھر شجاعت بھی آجاتی ہے اس لیے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا۔اہل دنیا بز دل ہوتے ہیں ان میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی ہے۔اس بات کو سن کر کہ خدا تعالیٰ سے جس قدر تعلقات شدید ہوتے ہیں اور ایسے لوگ تنہائی اور خلوت کو پسند کرتے ہیں۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ پھر ان نبیوں اور رسولوں کے بیوی بچے کیوں ہوتے ہیں؟ وہ بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ ایسا اعتراض کرنے والے نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کی تو ایسی مثال ہے جیسے ایک شخص تو کسی کے دروازے پر بھیک مانگنے جاوے اور ایک اس کا دوست ہو اور وہ محض اس سے ملنے ہی کے لیے گیا ہو۔اب اگر وہ دوست اپنے دوست کے سامنے پلاؤ وغیرہ لاکر رکھ دیتا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟ اس دوست کو تو اس کے کھانے میں لذّت آتی ہے اور وہ گدا جو ہے اس کو خشک روٹی کا ٹکڑا دے دیا جاتا ہے۔اگر زیادہ ٹھہرے تو پھر دھکے دے کر باہر کیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ معاملہ دوست سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے زیادہ قیام اور اس کے کھانے پینے سے خود اسے ایک لذت آتی ہے۔یہی حال ان نبیوں اور ماموروں کا ہوتا ہے۔ان کے سامنے جو کچھ آتا ہے وہ ان کی نفسانی خواہشوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔وہ تو ساری لذّت اور راحت اللہ تعالیٰ ہی کے ذکر اور شغل میں پاتے ہیں