ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 177

کے واقعہ سے خدا تعالیٰ اپنے نام اور اپنی ہستی کو لوگوں پر ظاہر کرے گا۔۱ الہام کا دروازہ کھلا ہے فرمایا۔جیسا ہمارے علماء کا عقیدہ ہے کہ اب الہام کا دروازہ بند ہوگیا ہے۔اگر یہ سچ ہوتا تو ایک عارف طالب تو زندہ ہی مر جاتا۔خدا بخیل نہیں ہے اس نے خود صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۷) کی دعا سکھائی ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ان نعمتوں کا دروازہ کھلا ہے۔افسوس ہے کہ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کا بھی یہی مذہب تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں جو الہام ہوتا ہے وہ شیطانی یا الہامی۲ ہے۔ہمیں تعجب آتا ہے کہ ان لوگوں کا ایسے الہام اور اس عقیدہ کے بعد کیا حال ہوتا ہے۔اگر اس پر عمل کریں تو ممکن ہے شیطان کے فرمان کی پیروی کرتے ہیں۔اگر نہ کریں تو یہ شبہ ہے کہ خدا کو ناراض کرتے ہیں۔یہی حال الٰہی بخش اکونٹنٹ کے الہامات کا ہے۔ان سے تو موسیٰ کی ماں ہی اچھی رہی جس نے خدا کے کلام پر ایمان قائم کر کے اپنے بچے کو دریا میں رکھ دیا۔۳ (دربارِ شام) شام کی تاریکی قلمبند کرنے کی اجازت نہ دیتی تھی اس لیے میں نے خدا داد قوت حافظہ کی مدد سے اپنے الفاظ میں اس روئداد کو لکھا ہے جو بزرگ اس اجلاس میں موجود تھے وہ اسے پڑھ کر انشاء اللہ سمجھ لیں گے کہ میں اس کے لکھنے میں بہت بڑی حد تک کامیاب ہوا ہوں۔وَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ (ایڈیٹر) انبیاء کے کلام میں عجز و انکسار کا اظہار سلسلہ کلام اس امر سے شروع ہوا کہ تمام نبیوں اور راستبازوں کے کلام میں عجز و انکسار کے الفاظ اور اپنی کمزوری کا اظہار پایا جاتا ہے اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام