ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 171

تشریف لا کر شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔شیخ مظہر الدین صاحب انسپکٹر پولیس پشاور چند روز سے اپنی محترمہ ہمشیرہ صاحبہ کو لے کر آئے ہوئے تھے۔شیخ صاحب کی ہمشیرہ ایک صدمہ رسیدہ خاتون ہے اور متواتر موت کے صدموں نے انہیں سخت شکستہ خاطر بنا دیا ہے۔وہ اپنے معزز بھائی کے ہمراہ اس غرض سے دارالامان آئی تھیں کہ حضرت اقدس سے دعا کرائیں تاکہ درد رسیدہ دل پر سکینت کا نزول ہو اور آپ کی پُر اثر نصائح سے اطمینان خاطر ہو۔حضرت مخدوم الملّت نے حضرت حکیم الامت کے اشارہ سے شیخ صاحب کے لیے اجازت چاہی کہ وہ ایک ضروری کام اور تفکّر کی وجہ سے جلد جانا چاہتے ہیں۔فرمایا۔میں نے آپ کی ہمشیرہ صاحبہ کو بہت کچھ سمجھایا ہے اور ان کے لیے دعا بھی کی ہے۔اور وعدہ بھی کیا ہے کہ دعا کروں گا۔ہاں اتنی بات ہے کہ آپ یاد دلاتے رہیں۔میں نے ان کو کہہ دیا تھا کہ مولویانہ وعظ و نصیحت سے آپ کے دل کو تسلّی نہیں ہوگی۔یہ تسلّی تو خدا تعالیٰ کی ہی طرف سے آئے گی کیونکہ جس نے دل بنایا ہے وہ دل پر اثر ڈال سکتا ہے اور یہ سب کچھ دعاؤں سے ہی ممکن ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ انہیں بہت فائدہ ہوا ہے۔فرمایا۔دعاؤں میں جو رو بخدا ہو کر توجہ کی جاوے تو پھر ان میں خارق عادت اثر ہوتا ہے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دعاؤں میں قبولیت خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے اور دعاؤں کے لیے بھی ایک وقت جیسے صبح کا ایک خاص وقت ہے اس وقت میں خصوصیت ہے وہ دوسرے اوقات میں نہیں۔اسی طرح پر دعا کےلیے بھی بعض اوقات ہوتے ہیں جبکہ ان میں قبولیت اور اثر پیدا ہوتا ہے۔فرمایا۔عام انسان صدموں کو برداشت نہیں کر سکتے۔یہ انبیاء علیہم السلام ہی کے قلوب ہوتے ہیں کہ وہ ہر قسم کی صدمات اور مشکلات کو برداشت کرتے ہیں اور ذرا بھی نہیں گھبراتے۔فرمایا۔بعض مقام ایسے ہوتے ہیں کہ تقریر سے دل تسلّی پکڑتا ہے لیکن بعض مقام ایسے ہوتے ہیں کہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کام کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے کام میں صدہا مخفی اسرار ہوتے ہیں جن کو انسان کبھی سمجھ لیتا ہے اور کبھی نہیں۔انسان کو چونکہ آخرت کے ذخیرہ کی ضرورت ہے اور بعض اوقات انسان کے افعال ایسے نہیں ہوتے جو آخرت میں کام دیں اس لیے اللہ تعالیٰ قضاء و قدر