ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 150

مقابلہ نہیں کر سکتی۔خدا تعالیٰ نے اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کیا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى(الـنحل:۹۱)۔اخلاق کی انتہا ادنیٰ درجہ عدل کا ہوتا ہے۔جتنا لے اتنا دے۔اس سے ترقی کرے تو احسان کا درجہ ہے جتنا لے وہ بھی دے اور اس سے بڑھ کر بھی دے۔پھر اس سے بڑھکر اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰىکا درجہ ہے یعنی دوسروں کے ساتھ اس طرح نیکی کرے جس طرح ما بچہ کے ساتھ بغیر نیت کسی معاوضہ کے طبعی طور پر محبت کرتی ہے۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اللہ ترقی کر کے ایسی محبت کو حاصل کر سکتے ہیں۔انسان کا ظرف چھوٹا نہیں۔خدا کے فضل سے یہ باتیں حاصل ہوجاتی ہیں بلکہ یہ وسعت اخلاق کے لوازمات میں سے ہے۔میں تو قائل ہوں کہ اہل اللہ یہاں تک ترقی کرتے ہیں کہ مادری محبت کے اندازہ سے بھی بڑھ کر انسان کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ایک بڑھیا کا ذکر ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کی وفات کے روز بغیر اس کے کہ اس کو کسی نے خبر دی ہو خود بخود کہنے لگی کہ آج ابو بکر مر گیا ہے۔لوگوں نے پوچھا کہ تجھ کو کس طرح سے معلوم ہوا۔اس نے کہا کہ ہر روز مجھ کو آپ حلوہ کھلایا کرتے تھے اور وہ وعدہ میں تخلّف کرنے والے ہرگز نہ تھے چونکہ آج وہ حلوہ کھلانے نہیں آئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں ورنہ وہ ضرور مجھے حلوہ کھلانے آج بھی آتے۔دیکھو اخلاقی حالت کہاں تک وسعت کر سکتی ہے۔یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ان اخلاق پر دوسرے لوگ قادر نہیں ہو سکتے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مجرم پکڑا ہوا آیا تو وہ آپ ہی رعب سے کانپتا تھا۔آپ نے فرمایا تو کیوں اتنا ڈرتا ہے میں تو ایک بڑھیا کا بیٹا ہوں۔معمولی انسانوں کے یہ اخلاق نہیں ہوتے۔عرب کی قوم کئی پشتوں تک کینہ رکھنے والی تھی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان پر غلبہ پایا تو باوجود اس قدر دکھوں کے جو ان سے اٹھایا تھا سب کو معاف کر دیا۔دنیوی حکومت رحم نہیں کر سکتی۔انگریزوں نے باغیوں کو کس طرح پھانسی دیا اور قتل کیا تھا۔مگر آنحضرتؐنے اپنے سب باغیوں کو یک دفعہ معاف کر دیا۔کسی نبی کو ایسی