ملفوظات (جلد 7) — Page 147
راحت ہوسکتی ہے اور یہی ایک مابہ الامتیاز امر ہوتا ہے جو مامورین اور دوسروں میں رکھ دیا جاتا ہے۔استجابتِ دعا کا ایک وقت ہوتا ہے فرمایا۔شیخ صاحب میں آپ کے لیے پانچ وقت دعا کرتا ہوں لیکن استجابت کا ایک وقت ہوتا ہے۔انسان کو بعض وقت ایک ہی سمت مقصود ہوتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ مومن کے لیے دنیا اور آخرت میں سنوار چاہتا ہے۔اس لیے بعض وقت ابتلا آجاتے ہیں جو بالآخر بابرکت ہوتے ہیں۔بعض انسانی کمزوریوں کا علاج یہ مصائب ہوتے ہیں۔انسان میں بیشک بعض کمزوریاں ایسی ہوتی ہیں جن کو یہ سمجھ نہیں سکتا۔لیکن میری دعائیں ایسی ہوتی ہیں کہ محل قبولیت تک پہنچتی ہیں۔وقت شرط ہے۔پھر ایک طرف مخاطب ہو کر۔میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں لیکن کل کے امر میں میں نے خیال کیا تو میں نے سمجھا کہ شاید یہی امور میری دعا کی استجابت میں مانع ہوں مگر آپ کے لکھنے پر مجھے اصل واقعہ کی حقیقت معلوم ہوئی۔دعا کی قبولیت میں تاخیر ڈالنے والے یا دعا کے ثمرات سے محروم کرنے والے بعض مکروہات ہوتے ہیں۔جن سے انسان کو بچنا لازم ہے۔مصائب دنیا میں آکر آخرت میں موجب مدارج ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ثواب ملتا دیکھ کر بعض لوگ کہیںگے کہ کاش ہمارے وجود بھی قینچیوں سے کاٹے جاتے اور ہم بھی یہ معاوضے حاصل کرتے۔سب سے بڑھ کر مصائب انبیاء پر آتے ہیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو زندگی میں کیا کیا تکلیفیں اٹھانی پڑیں۔غرضیکہ گھبرانا نہیں چاہیے۔اپنے الہامات پر یقین کامل ہمیں زلزلے کے متعلق پورا اطمینان ہے۔مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ہمارے اشتہارات کے شائع ہونے کے بعد الہام ہوا ہے۔جس سے خدا تعالیٰ کا ارادہ قطعی ثابت ہوتا ہے۔ہم نے جو کچھ اخراجات ہزاروں تک خیمے وغیرہ منگوا کر کئے ہیں۔وہ دھوکے کی بنا پر نہیں کئے۔ہمیں خدا کی باتوں پر ایمان ہے۔تاریخ کا مقرر نہ ہونا یا وقت کی کمی بیشی پیشگوئی کے ظاہر ہونے کی وقعت میں کچھ کمی