ملفوظات (جلد 7) — Page 144
مخالفین کا وجود بھی ضروری ہے ذکر آیا کہ بعض جگہ مخالفین ہماری جماعت کے لوگوں کو بہت دکھ دیتے ہیں اور بڑی بڑی ایذا رسانی کرتے ہیں۔فرمایا۔خدا تعالیٰ کے آگے کسی کا نابود کرنا کچھ مشکل نہیں۔لیکن جس کی طاقتیں بڑی ہوتی ہیں اس کا حوصلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔لیکن ایسے آدمیوں کا وجود بھی ضروری ہے۔اعداء کا وجود انبیاء کے واسطے بہت مفید ہوتا ہے۔قرآن شریف کے جو تیس سیپارے ہیں۔اس کے اکثر حصہ نزول کا سبب اعداء ہی ہوئے اگر سب ابو بکر کی طرح اٰمَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہنے والے ہوتے تو چند آیتوں پر یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔درخت کے واسطے جیسے صاف پانی کی ضرورت ہے ویسے ہی کچھ کھاد کے لیے گند کی بھی ضرورت ہے۔بہت سی آسمانی سر گرمی انہی لوگوں کی شرارتوں پر منحصر ہے۔کوئی بھی نہیں جس کے اعداء نہیں ہوئے۔نبی کے نفس کے واسطے یہ امر بہتر ہے کیونکہ اس طرح اس کی توجہ بڑھتی ہے۔اور معجزات تائید و نصرت زیادہ ہوتے ہیں اور جماعت کے واسطے بھی مفید ہے کہ وہ پکے ہو جاتے ہیں۔خدا کو دیر نہیں لگتی کہ لاکھوں کروڑوں کو ایک آن میں تباہ کر دے لیکن ضرورت کے سبب مخالفین کا وجود قائم رکھا جاتا ہے جس شہر میں خاموشی سی ہو اس جگہ جماعت ترقی نہیں پکڑتی۔خدا کی حکمتوں کو ہر ایک شخص نہیں پہچان سکتا۔۱ ۲۶؍مئی ۱۹۰۵ء چند الہامات اور ایک رؤیا فرمایا۔گھر میں طبیعت علیل تھی۔بہت سر در، دبخار اور کھانسی بھی تھی۔لوگوں کے لیے ابتلا کا خوف ہوتا ہے میں نے رات بہت دعا کی۔(شیخ رحمت اللہ صاحب کو مخاطب کرکے) آپ کے لیے بھی دعا کی تھی۔پہلے تو ایک مشتبہ سا الہام ہوا معلوم نہیں کس کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے۔(۱) شَـرُّ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْـھِمْ (ترجمہ) شرارت