ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 142

نہیں دوسرے قسم کی توجہوں میں انسان کا بھروسہ اشیاء پر ہوتا ہے۔جب قبلہ حقیقی کی طرف توجہ نہ ہو تو پھر بے فائدہ ہے۔فرمایا۔انگریزی میں سونے کو گولڈ کہتے ہیں جس کے لکھنے میں انگریزی حروف ج۔و۔ل۔د استعمال ہوتے ہیں۔یہ عربی لفظ دجال کا مقلوب ہے۔عربی میں دجال سونے کو کہتے ہیں۔اس زمانہ کی سہولتیں ہماری خادم ہیں اس زمانہ کے عجائبات کا تذکرہ تھا کہ ریل تار ڈاک وغیرہ سے کس قدر سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں۔فرمایا۔اسی واسطے ہم کو الہام ہواتھا کہ اَلَمْ نَـجْعَلْ لَّکَ سُھُوْلَۃً فِيْ كُلِّ اَمْـرٍکیا ہم نے تیرے واسطے ہر امر میں سہولت نہیں کر دی۔حقیقت میں یہ اشیاء کسی کے واسطے ایسی مفید نہیں ہوئیں جیسی کہ ہمارے واسطے ہوئی ہیں۔کیونکہ ہمارا مقابلہ دین کا ہے اور ان اشیاء سے جو نفع ہم اٹھاتے ہیں وہ دائمی رہنے والا ہے۔لوگ بھی چھاپے خانوں سے فائدے اٹھاتے ہیں لیکن ان کے اغراض دنیوی اور ناپائیدار ہیں۔برخلاف اس کے ہمارے معاملات دینی ہیں۔اس واسطے یہ چھاپے خانے وغیرہ جو اس زمانہ کے عجائبات ہیں در اصل ہمارے ہی خادم ہیں۔ایک الہام فرمایا۔آج رات یہ وحی ہوئی اُرِیْدُ مَا تُرِیْدُوْنَ میں ارادہ کرتا ہوں جو تم ارادہ کرتے ہو۔چونکہ ہمارے ارادے سب دوستوں کے واسطے مشترک ہیں جن کے لیے ہم دعائیں کرتے ہیں اس واسطے اس میں سب کے واسطے بشارت ہے۔یہ وحی قبولیتِ دعا کی طرف اشارہ کرتی ہے یعنی تمہارے ارادے کے موافق ہمارا ارادہ ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے عرض کی کہ یہ قرآن شریف کی اس وحی کے مطابق ہے کہ اَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ(البقرۃ:۱۱۶)۔قبولیتِ دعا کے اوقات شیخ رحمت اللہ صاحب کو فرمایا کہ ہم آپ کے واسطے دعا کرتے ہیں آپ بھی اس وقت دعا کیا کریں۔ایک تو رات کو تین بجے تہجد کے واسطے خوب وقت ہوتا ہے۔کوئی کیساہی کمزور ہو تین بجے