ملفوظات (جلد 7) — Page 134
۲؍مئی ۱۹۰۵ء (قبل نماز ظہر) ایک نئی روشنی کے نوجوان جو بمبئی سے کسی تقریب پر لاہور آئے تھے اور وہاں سے حضرت اقدس کے شوق ملاقات میں قادیان تشریف لائے تھے۔حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت ان کا حال دریافت کرتے رہے۔اس کے بعد آپ نے فرمایا۔دین کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت زمانہ میں بہت انقلاب ہوتے ہیں۔لیکن اکثر آج کل لوگوں کا یہ حال ہے کہ ایک طرف ایسے جھکے ہوئے ہیں کہ دوسری طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور اپنے دنیوی کاموں میں یا رسمی معاملات میں ایسے منہمک ہیں کہ دوسری جانب یا تو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے یا اس سے قطعاً نفرت رکھتے ہیں۔لیکن جو بات خدا کی طرف سے ہونے والی ہے وہ خواہ مخواہ ہو کر رہتی ہے۔دیکھو! ایک زور آور سیلاب جو آنے والا ہوتا ہے اس کو کوئی کتنا ہی روکے بہرحال وہ آہی جاتا ہے اور کسی کے روکنے سے رک نہیں سکتا۔حضرت کے اس نوجوان سے دریافت کرنے پر کہ آپ کتنے روز ہمارے پاس قیام کریں گے انہوں نے عرض کی کہ مجھے کل واپس جانا ضروری ہے۔اس پر فرمایا کہ آپ اخلاص کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔آپ چند روز ٹھہرتے تو خوب ہوتا۔مگر آپ کا وقت تنگ ہے۔دوسرے پہلو کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ع کارِ دنیا کسے تمام نہ کرد جیسا جیسا انسان کسی کام میں بڑھتا ہے ویسا ہی اس کام کے بڑھنے اور زیادہ ہونے کے بھی راہ کھلتے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ دوسری طرف توجہ کرنے کے واسطے انسان کے پاس نہ وقت رہتا ہے اور نہ ہمت۔مگر رشید آدمی کے واسطے خدا تعالیٰ آپ ہی سامان مہیا کر دیتا ہے اور اس کے دل کے اندر ہی ایک واعظ پیدا کردیتا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے اِذَا اَرَادَ اللہُ بِہٖ خَیْـرًا یُّفَقِّھْہُ