ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 128

کریں گے۔ان باتوں کو سن کر یوں تو ہرشخص جواب دینے کو طیار ہوجاتا ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں استغفار بھی کرتے ہیں۔پھر کیوں مصائب اور ابتلا آجاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو جو سمجھ لے وہی سعید ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا منشا کچھ اور ہوتا ہے سمجھا کچھ اور جاتا ہے اور پھر اپنی عقل اور عمل کے پیمانہ سے اسے ماپا جاتا ہے۔یہ ٹھیک نہیں۔ہر چیز جب اپنے مقررہ وزن سے کم استعمال کی جاوے تو وہ فائدہ نہیں ہوتا جو اس میں رکھا گیا ہے۔مثلاً ایک دوائی جو تولہ کھانی چاہیے اگر تولہ کی بجائے ایک بوند استعمال کی جاوے تو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ اور اگر روٹی کی بجائے کوئی ایک دانہ کھالے تو کیا وہ سیری کا باعث ہوسکے گا؟ اور پانی کے پیالے کی بجائے ایک قطرہ سیراب کر سکے گا؟ ہرگز نہیں۔یہی حال اعمال کا ہے۔جب تک وہ اپنے پیمانہ پر نہ ہوں وہ اوپر نہیں جاتے ہیں۔یہ سنت اللہ ہے جس کو ہم بدل نہیں سکتے۔پس یہ بالکل خطا ہے کہ اسی ایک امر کو پلے باندھ لو کہ طاعون والے سے پرہیز کریں تو طاعون نہ ہوگا۔پرہیز کرو جہاں تک مناسب ہے لیکن اس پرہیز سے باہمی اخوت اور ہمدردی نہ اٹھ جاوے اور اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرو۔یاد رکھو کہ مردہ کی تجہیز و تکفین میں مدد دینا اور اپنے بھائی کی ہمدردی کرنا صدقات خیرات کی طرح ہی ہے۔یہ بھی ایک قسم کی خیرات ہے اور یہ حق حق العباد کا ہے جو فرض ہے۔جیسے خدا تعالیٰ نے صوم و صلوٰۃ اپنے لیے فرض کیا ہے اسی طرح اس کو بھی فرض ٹھہرایا ہے کہ حقوق العباد کی حفاظت ہو۔پس ہمارا کبھی یہ مطلب نہیں ہے کہ احتیاط کرتے کرتے اخوت ہی کو چھوڑ دیا جاوے۔ایک شخص مسلمان ہو اور پھر سلسلہ میں داخل ہو اور اس کو یوں چھوڑ دیا جاوے جیسا کتے کو۔یہ بڑی غلطی ہے جس زندگی میں اخوت اور ہمدردی ہی نہ ہو وہ کیا زندگی ہے! پس ایسے موقع پر یاد رکھو کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو جاوے تو ہمدردی کے حقوق فوت نہ ہونے پاویں۔ہاں مناسب احتیاط بھی کرو۔مثلاً ایک شخص طاعون زدہ کا لباس پہن لے یا اس کا پس خورہ کھا لے تو اندیشہ ہے کہ وہ مبتلا ہوجاوے۔لیکن ہمدردی یہ نہیں بتاتی کہ تم ایسا کرو۔احتیاط کی رعایت رکھ کر اس کی خبرگیری کرو اور پھر جو زیادہ وہم رکھتا ہو وہ غسل کر کے صاف کپڑے بدل لے۔