ملفوظات (جلد 7) — Page 124
اللہ تعالیٰ خود بخود نور اور سکینت نازل کرتا ہے۔خدا کی رحمت کا وقت آتا ہے اور ایک ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور وہ بات ہوا ہو جاتی ہے۔انسان کو چاہیے کہ تھک نہ جاوے۔سجدہ میں یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْـمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ بہت پڑھا کرو۔لیکن یاد رکھو کہ جلد بازی خوفناک ہے۔اسلام میں انسان کو بہادر بننا چاہیے۔برسوں کی محنت و مشقت کے بعد آخر شیطان کے حملے کمزور ہوجاتے ہیں اور وہ بھاگ جاتا ہے۔۱ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۵ء آئندہ آنے والی آفات اس الہام کا تذکرہ تھا کہ بھونچال آیا اور شدید آیا۔فرمایا کہ بار بار زلزلہ کے متعلق جو الہامات ہوتے ہیں اور خوابیں آتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر کچھ ایسی طیاری ہو رہی ہے کہ یہ امر جلد ہونے والا ہے۔بہت سی باتیں ہوتی ہیں کہ انسان ان کو دور سمجھتا ہے مگر خدا کے علم میں وہ بہت قریب ہوتی ہے۔يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا وَّ نَرٰىهُ قَرِيْبًا (المعارج:۷،۸) تم اسے دور دیکھتے ہو اور ہم قریب دیکھتے ہیں۔بَغْتَةً آنے والے عذاب مرزا ظفر اللہ خان صاحب ای۔اے۔سی گورداسپور کے ایک رشتہ دار کا ایک خط بنام سید امیر علی شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر تھا وہ پڑھا گیا۔اس میں نہایت دردناک الفاظ میں زلزلہ سے گھر کے آدمیوں کی تباہی کا تذکرہ تھا۔اور لکھا تھا کہ میرے بتیس رشتہ دار ایک دم میں فوت ہوگئے ہیں۔جن میں عزیز بھائی اور پیاری بیوی بھی شامل تھی۔حضرت نے فرمایا۔ابھی آگے آنے والا اس سے بھی سخت نظر آتا ہے مگر لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ابھی تک ہنسی ٹھٹھے سے باز نہیں آتے۔خدا کا دن اچانک آنے والا ہے۔مولوی نور الدین صاحب نے عرض کی کہ انجیل میں لکھا ہے کہ وہ چور کی طرح آئے گا۔