ملفوظات (جلد 7) — Page 123
۱۹؍اپریل۱۹۰۵ء آتھم اور لیکھرام فرمایا۔آتھم نے نرم دلی اختیار کی اس کے معاملہ میں تاخیر کی گئی۔لیکھرام نے شوخی دکھائی اس کے معاملہ میں تقدیم کی گئی۔یعنی مدت پیشگوئی ہنوز گذرنے نہ پائی تھی کہ وہ ہلاک ہوگیا۔۱ قبل نماز ظہر عاجز راقم ۲سے دریافت کیا کہ آیا شیخ یعقوب علی صاحب اشتہار النداء کے انطباع کے انتظام کے واسطے لاہور چلے گئے ہیں۔میں نے عرض کی کہ صبح چلے گئے ہیں۔فرمایا۔ہمارا جی چاہتا ہے کہ آپ بھی جائیں اور پروف کو بغور پڑھ کر درست کر دیں۔چنانچہ حسب الحکم یہ عاجز شام کو لاہور چلا گیا اور چار روز کے بعد واپس دارالامان میں حاضر ہوا۔۳ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۵ء وساوس کا علاج ایک شخص نے عرض کی میرا دل آجکل ایسا ہو رہا ہے کہ نماز میں لذّت اور رِقّت پیدا نہیں ہوتی اور نہایت سخت تکلیف میں رہتا ہوں۔خواہ مخواہ شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں اگرچہ ان کو بہت ردّ کرتا ہوں تاہم وساوس پیچھا نہیں چھوڑتے۔فرمایا۔یہ بھی خدا کا فضل اور احسان ہے کہ انسان ایسے وساوس کا مغلوب نہیں ہوتا۔یہ بھی ثواب کی حالت ہے۔نفس کی تین حالتیں ہیں۔ایک تو نفسِ امّارہ ہے نفسِ امّارہ والے کو تو خبر ہی نہیں کہ بدی کیا شے ہے۔دوسرا نفس لوّامہ ہے جو بدی کرتا ہے پر بدی پر ہمیشہ گھبراتا ہے اور شرمندہ ہوتا ہے اور توبہ کرتا رہتا ہے۔ایسا شخص نفس کا غلام نہیں ہے اور اس حالت میں ہونا ایک حد تک ضروری بھی ہے اس سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں بڑے بڑے ثواب ہیں یہاں تک کہ