ملفوظات (جلد 7) — Page 120
بیماری کا ذکر تھا۔فرمایا۔میں تو سب کے لیے دعا کرتا ہوں۔آگے اپنے اپنے اعمال ہیں۔۱ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۵ء نواب محمد علی خان صاحب کا خط آیا۔جس میں انہوں نے الحاح کے ساتھ لکھا ہوا تھا کہ میں اب لاہور میں ہرگز نہیں رہ سکتا۔مجھے باغ کے کسی گوشہ میں جگہ دے دیں۔عاجز راقم۲ کو حکم دیا کہ ان کو تحریر کر دو کہ آجائیں اور باغ کے کسی حصہ میں جہاں چاہیں جگہ کر لیں۔اس زمانہ کے بنی اسرائیل دھرم سالہ سے خبر آئی کہ اس جگہ اپنی جماعت کے جتنے آدمی تھے سب بچ گئے۔فرمایا۔كَفَفْتُ عَنْ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ والی وحی ان کے معاملہ میں تو پوری ہوگئی۔خدا نے اس غریب جماعت کا نام اس وقت بنی اسرائیل رکھا ہے۔۳ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۵ء آفات کی خبر فرمایا۔لوگ کچھ ہی کریں اور کچھ ہی لکھیں مگر جیسی آفت کی خبر خدا نے اب دی ہے یہ جب ظاہر ہوگی تو بہرحال ان کو ماننا ہی پڑے گا۔کسی جگہ سے دس ہزار کے مرنے کی اور کسی جگہ سے تین ہزار کے مرنے کی خبر آرہی ہے۔اللہ تعالیٰ کی وحی نے پہلے سے ہی خبر دی تھی کہ یہ سب کچھ تیرے لیے ہے لَکَ نُرِیْ اٰیَاتٍ۔اور ایسا ہی براہین احمدیہ میں درج ہے قُوَّۃُ الرَّحْمٰنِ لِعُبَیْدِ اللہِ الصَّمَدِ۔اس جگہ ہمارا نام عبید اللہ اس لحاظ سے رکھا گیا ہے کہ ہم مخالفوں