ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 121

کی دکھ دہی اور مصائب سے بہت ستائے گئے ہیں۔کسی نے خبر سنائی کہ بہاگسو میں کئی سو مر گئے اور جو باقی ہیں وہ بھوکھ سے مر رہے ہیں۔اور سبحان پور میں بڑی تباہی آئی لیکن احمدی جماعت کا آدمی وزیر الدین ہیڈ ماسٹر بچ گیا۔فالحمد للہ فرمایا۔یہ نشان تو صرف ایک بیج بویا گیا ہے اور تخم ریزی ہے اور دوسرا نشان اس سے بڑھ کر ہوگا۔کفار میں بھی سعید فطرت ہوتے ہیں۔آخر ہنود بھی اس طرف توجہ کریں گے۔۱ ۱۶؍اپریل ۱۹۰۵ء امام الصلوٰۃ کے لیے ہدایت کسی شخص نے ذکر کیا کہ فلاں دوست نماز پڑھانے کے وقت بہت لمبی سورتیں پڑھتے ہیں۔فرمایا۔امام کو چاہیے کہ نماز میں ضعفاء کی رعایت رکھے۔ایک اخبار انگریزی کا مضمون حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ محققین حیران ہیں کہ ان پہاڑوں سے یہ امید نہ تھی۔فرمایا۔عقلمندوں کو کس طرح خدا حیران کرتا ہے۔ان ملکوں میں آتش فشانی کی کبھی امید نہ تھی بلکہ یہ پہاڑ امن کا سلسلہ سمجھا جاتا تھا۔۲ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۵ء اس زمانہ کے مسلمانوں سے خطاب فرمایا۔براہین احمدیہ میں ایک الہام یہ بھی درج ہے اَمْ حَسِبْتُمْ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ كَانُوْا مِنْ اٰيٰتِنَا عَجَبًا اس میں اس زمانہ کے لوگوں کو کہا گیا ہے کہ تم اصحاب کہف کے قصہ