ملفوظات (جلد 7) — Page 117
ایک پرانا الہام فرمایا کہ ہمیں اس وقت اپنا پرانا الہام یاد آتا ہے کہ وَتَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ فَجَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔اور تجلی کی اس کے رب نے پہاڑ پر یعنی مشکلات کے پہاڑ پر اور کر دیا اس کو پاش پاش اور گرا موسیٰ بے ہوش ہو کر۔یعنی ایسی تجلی ہیبت ناک تھی کہ اس کی ہیبت کا اثر موسیٰ پر بھی پڑا۔زلزلہ کے پہلے دھکّا کے وقت ہم دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے تھے۔ایک ہیبت ناک صورت پیش نظر تھی جس کا ایک قوی اثر دل پر تھا۔ایسا اثر تھا کہ گویا ایک صعق کی قسم تھی۔آج کے الہام میں جو آئندہ زلزلہ کا خوف ہے معلوم نہیں کہ کب پورا ہو اور معلوم نہیں کہ زلزلہ سے مراد کس قسم کا عذاب ہے۔عَفَتِ الدِّیَارُ مَـحَلُّھَا وَ مَقَامُھَا والا الہام کیسا پورا ہوا کہ شہر اور چھاؤنیوں کے نشان مِٹ گئے۔نہ خانہ رہا اور نہ صاحب خانہ۔آریوں کے اخبار ڈیلی ٹائمز اور آریہ پترکا اور اہلحدیث نے جو مخالفانہ ریمارکس کئے ہیں ان کا ذکر آیا۔حضرت نے فرمایا کہ ان سب کو یہی جواب دے دو کہ ہم آسمانی فیصلہ کے منتظر ہیں تمہارا جواب دینا پسند نہیں کرتے۔تمہارا جو جی چاہے کہتے جاؤ۔انبیاء کی تربیت آہستہ آہستہ ہوتی ہے فرمایا۔تربیت انبیاء کی اسی طرح آہستہ آہستہ ہوتی چلی آئی ہے ابتدا میں جب مخالف دکھ دیتے ہیں تو صبر کا حکم ہوتا ہے اور نبی صبر کرتا ہے یہاں تک کہ دکھ حد سے بڑھ جاتا ہے۔تب خدا کہتا ہے کہ اب میں خود تیرے دشمنوں کا مقابلہ کروں گا۔اب یقیناً جانو کہ وقت بہت قریب ہے اس وقت ہمیں وہ وحی الٰہی یاد آتی ہے جو عرصہ ہوا کہ ہم پر نازل ہوئی تھی کہ قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ۔وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ ذِکْرًا۔ان مخالفوں کی مخالف باتوں کا کوئی نشان اور ذکر باقی نہ رہے گا۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس جماعت کو اپنی قدرتوں پر ایمان دلاوے۔یمین و یسار میں نشانات ہیں۔