ملفوظات (جلد 7) — Page 116
لوگوں پر جو علم رکھتے ہیں اور پھر بھی تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔کسی کو کیا معلوم کہ اندر ہی اندر کیا طیاری ہو رہی ہے اور ابھی زمین پر کیا ہونے والا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ایسی تباہی لائے گا جس کی خبر وحی الٰہی میں ہے تو پھر توبہ اور رجوع بھی فائدہ نہ دے گا۔مبارک ہیں وہ جو پہلے ایمان لائے اور پھر وہ جو اُن کے بعد آئے۔ایسا ہی درجہ بدرجہ سب کا حصہ ہے۔دیکھو کس قدر قیامت کا نمونہ ہے مگر پھر بھی یہ لوگ باز نہیں آتے اور ناجائز باتیں کہتے ہیں۔لیکن ہماری جماعت کو چاہیے کہ ان کی باتوں کے سبب غمگین نہ ہوویں۔یہ لوگ جیسے اہلحدیث وغیرہ ہیں یہ ہمارے سلسلہ کی رونق ہیں۔اگر اس قسم کے شور مچانے والے نہ ہوں تو رونق کم ہوجاتی ہے کیونکہ جس نے مان لیا ہے وہ تو اپنے آپ کو فروخت کر چکا ہے اور مثل مردہ کے ہے وہ کیا بولے گا وہ تو زبان کھول ہی نہیں سکتا۔اگر سارے ابو بکر ہی بن جاتے تو پھر ایسی بڑی بڑی نصرتوں کی کیا ضرورت پڑتی جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہوئی تھیں۔دیکھو سنت اللہ یہی ہے کہ پہلے سخت گرمی پڑے پھر برسات ہو۔پس تم خوش ہو کہ ایسے آدمی دنیا میں موجود ہیں جو اس نصرت اور فتح کو جو کروڑوں کوس دور ہوتی ہے ایک دو کوس کے قریب کھینچ لاتے ہیں۔اب ان معاملات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔آج کے الہامات پر غور کرو۔اب بحث مباحثہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ہماری طرف سے خدا آپ جواب دینے لگا ہے تو خلاف ادب ہے کہ ہم دخل دیں اور سبقت کریں۔جس کام کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے وہ اس کو ناقص نہ چھوڑے گا۔کیونکہ اب اگر امن ہو جائے اور کوئی نشان نہ دکھایا جائے تو قریب ہے کہ ساری دنیا دہریہ بن جائے اور کوئی نہ جانے کہ خدا ہے۔لیکن خدا اب اپنا چہرہ دکھائے گا۔میرے۱ لڑکے محمد منظور کا رؤیا حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا۔فرمایا۔مومن کبھی رؤیا دیکھتا ہے اور کبھی اس کی خاطر کسی اور کو دکھاتا ہے۔ہم نے اس کی تعمیل میں چودہ بکرے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔سب جماعت کو کہہ دو کہ جس جس کو استطاعت ہے قربانی کر دے۔