ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 115

واسطے ہم باہر آگئے اورزلزلہ کی کیفیت ایسی ہے کہ اب تک محسوس ہوتا ہے۔خدا نے دل میں پختہ طور سے یہی بات ڈال دی کہ اب باہر جانا چاہیے۔طاعون کے لحاظ سے باہر آنا تو گناہ تھا مگر زلزلہ کے سبب خدا نے یہ بات دل میں ڈال دی اور اس سے ہم کو بہت فائدہ اور آرام ہوا۔کیونکہ باغ میں عمدہ ہوا اور خوشبو دار پھولوں کے سبب مضامین کے لکھنے اور فکر اور تدابیر کے واسطے عمدہ موقع ملتا ہے اور صحت میں بہت ترقی محسوس ہوتی ہے اور درختوں کی چھاؤں کے نیچے دعا کے واسطے عمدہ خلوت گاہ مل جاتی ہے جس کے سبب ہم باغ کے مکان میں آگئے۔نشانات کی کثرت اور وسعت فرمایا۔اب تو اس قدر نشانات ظاہر ہو رہے ہیں کہ گویا خدا اپنے آپ کو برہنہ کر کے دکھانا چاہتا ہے۔فرمایا۔پہلے انبیاء کے معجزات تو خاص زمینوں اور خاص شہروں تک عموماً محدود ہوتے تھے مگر اب تو خدا تعالیٰ ایسے نشان اس سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے جو دنیا بھر پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔۱ ۸؍اپریل ۱۹۰۵ء فرمایا۔جب دنیا مد نظر ہو تو تطہیر مشکل ہے۔۲ ۹؍اپریل۱۹۰۵ء سلسلہ کی مخالفت اور اللہ تعالیٰ کی چہرہ نمائی پرچہ اہلحدیث امرتسر کا ذکر ہوا جس نے بہت سے بے جا حملے خدا کے سلسلہ پر کئے۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔کم علم آدمی تو معذور ہوتا ہے معاف بھی کیا جاتا ہے مگر تعجب ہے ان