ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 3

۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۴ء (بوقتِ ظہر) تجارتی روپیہ پر منافع ظہر کے وقت ایک صاحب کی خاطر حضرت حکیم نور الدین صاحبؓنے ایک مسئلہ حضرت اقدسؑ سے دریافت کیا کہ یہ ایک شخص ہیں جن کے پاس بیس بائیس ہزار کے قریب روپیہ موجود ہے۔ایک سکھ ہے وہ ان کا روپیہ تجارت میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور ان کے اطمینان کے لیے اس نے تجویز کی ہے کہ یہ روپیہ بھی اپنے قبضہ میں رکھیں لیکن جس طرح وہ ہدایت کرے اسی طرح ہر ایک شے خرید کر جہاں کہے وہاں روانہ کریں اور جو روپیہ آوے وہ امانت رہے۔سال کے بعد وہ سکھ دو ہزار چھ سو روپیہ ان کو منافع کا دے دیا کرے گا۔یہ اس غرض سے یہاں فتویٰ دریافت کرنے آئے ہیںکہ یہ روپیہ جو ان کو سال کے بعد ملے گا اگر سود نہ ہو تو شراکت کر لی جاوے۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ چونکہ انہوں نے خود بھی کام کرنا ہے اور ان کی محنت کو دخل ہے اور وقت بھی صرف کریں گے اس لیے ہر ایک شخص کی حیثیت کے لحاظ سے اس کے وقت اور محنت کی قیمت ہوا کرتی ہے۔دس دس ہزار اور دس دس لاکھ روپیہ لوگ اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔لہٰذا میرے نزدیک تو یہ روپیہ جو ان کو وہ دیتا ہے سود نہیں ہے۔اور میں اس کے جواز کا فتویٰ دیتا ہوں۔سود کا لفظ تو اس روپیہ پر دلالت کرتا ہے جو مفت بلا محنت کے (صرف روپیہ کے معاوضہ میں) لیا جاتا ہے۔اب اس ملک میں اکثر مسائل زیر و زبر ہوگئے ہیں۔کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔۱ احباب کی ضروریات کا خیال ظہر کی نماز سے پیشتر حضور علیہ السلام نے کچھ روپیہ جن کی تعداد غالباً آٹھ یا دس ہوگی ایک مخلص مہاجر کو۱ جو صاحب اس مسئلہ کو دریافت کرنے آئے تھے ان کی دینداری واقعی میں قابل رشک ہے کہ اس وقت جبکہ مسلمانوں نے حلال و حرام کی تمیز کو خیر باد کہہ کر صرف زر اندوزی کو اپنا مقصود بنا رکھا ہے یہ صاحب استفسار کے لیے اس قدر سفر دراز طے کر کے آئے۔صرف اس غرض سے کہ کہیں اس لین دین میں سُود نہ ہو جاوے۔اللہ تعالیٰ اس زمانہ کے کُل اہل اسلام کو اسی قسم کی توفیق دیوے کہ وہ اپنے معاملات میں دین کو مقدم رکھیں۔آمین(ایڈیٹر) یہ کہہ کر دیئے