ملفوظات (جلد 7) — Page 2
بعض امراض کا علاج عورتوں کے بعض امراض اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے علاج کے لیے کھلی ہوا کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے بعض رؤسا میں جو اشد درجہ کا پردہ رائج ہے میں اس کے خلاف ہوں۔بعض عورتوں کو بعض وقت کھلی ہوا میں پھرانا چاہیے۔دیکھو حضرت عائشہ صدیقہؓ رفع حاجت کےلیے باہر جایا کرتی تھیں کیا پھر آجکل کے رؤسا کی عورتیں ان سے بڑھ کر ہیں؟ حضرت حکیم نور الدین صاحب نے فرمایا کہ تجربہ سے معلوم ہوا کہ مراق کے تین علاج ہیں۔اوّل چلنا پھرنا۔دوسرے بیکار نہ رہنا، کسی نہ کسی شغل میں مصروف رہنا۔تیسرے ہینگ اور افسنطین کا استعمال۔حصول اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل ہی کی ضرورت ہے اور قرآن شریف اور تورات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کی والدہ بہت ضعیف تھیںاور ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ان کی نسبت توریت میں لکھا ہے کہ خدا نے کہا کہ میں نے اس کے رحم کو کھولا۔۱ پس خدا ہی کھولے تو کھل سکتا ہے۔(مگر یاد رہے کہ اس تقریر سے دائیوں کے علاج کی حرمت نہ سمجھی جائے۔)۲ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۰۴ء ۱۹؍اکتوبر ۱۹۰۴ء کو سیالکوٹ سے احمدی جماعت کی طرف سے دعوت کا پیغام آیا۔آپ نے فرمایا کہ تین چار روز کے بعد میں جواب دوں گا۔بعد میں معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام استخارہ کے بعد روانگی کی تاریخ مقرر کریں گے۔۳ ۱ پیدائش باب ۳۰ آیت ۲۲ ۲ البدر جلد ۳ نمبر ۴۰ مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۲ ۳ البدر جلد ۳ نمبر ۴۰ مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۲