ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 101

ہوسکتے ہیں۔حتی کہ حیوان بھی صاحب کشف ہو سکتا ہے لیکن الہام یعنی وحی الٰہی ایسی شے ہے کہ جب تک خدا سے پوری صلح نہ ہو اور اس کی اطاعت کے لیے اس نے گردن نہ رکھ دی ہو تب تک وہ کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(حٰمٓ السّجدۃ:۳۱) یہ اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔نزول وحی کا صرف ان کے ساتھ وابستہ ہے جو کہ خدا کی راہ میں مستقیم ہیں اور وہ صرف مسلمان ہی ہیں۔وحی ہی وہ شے ہے کہ جس سے اَنا الموجود کی آواز کان میں آکر ہر ایک شک اور شبہ سے ایمان کو نجات دیتی ہے اور بغیر جس کے مرتبہ یقین کامل کا انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔لیکن کشف میں یہ آواز کبھی نہیں سنائی دیتی اور یہی وجہ ہے کہ صاحبِ کشف ایک دہریہ بھی ہو سکتا ہے۔لیکن صاحب وحی کبھی دہریہ نہیں ہوگا۔اس مقام پر حضرت نور الدین صاحب حکیم الامۃ نے عرض کی کہ حضور سائل کا منشا یہ ہے کہ یہ خواہش کسی طرح دل سے دور ہو جاوے۔خدا کے برگزیدہ اور محبوب نے فرمایا کہ ان کے دل میں کشف کی جو عظمت بیٹھی ہوئی ہے جب تک وہ نہ دور ہوگی تو علاج کیسے ہوگا اسی لیے تو میں فرق بیان کر رہا ہوں۔ہمارے ہاں ایک چوڑھی (خاکروبہ) آتی ہے وہ بھی سچی خوابوں کا ایک سلسلہ بیان کیا کرتی ہے لیکن اس سے اس کا عند اللہ مقرب ہونا یا صاحب کرامت ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک مسلمان کا کشف جس قدر صاف ہوگا اس قدر غیر مسلم کا ہرگز صاف نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ ایک مسلم اور غیر مسلم میں تمیز رکھتا ہے اور فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا(الشّمس:۱۰)۔لیکن وحی کو کشف نہیں پاسکتا۔یہ وحی کی ہی قدر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے ارادہ سے اس کے لیے ایک شخص کو انتخاب کرتا ہے اور شرف مکالمہ بخشتا ہے اور ہرمیدان میں اس کا حافظ و ناصر ہوتا ہے اور صاحب وحی کے تعلقات دن بدن خدا سے قائم ہوتے اور بڑھتے جاتے ہیں اور ایمان میں غیر معمولی ترقی روز مشاہدہ کرتا ہے۔۱