ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 100

اس کو خواب (رؤیا) کہتے ہیں۔جسم بالکل معطل بیکار ہوتا ہے اور حواس کا ظاہری فعل بالکل ساکت ہوتا ہے۔لیکن کشف میں دوسرے حواس کی غیبت نہیں ہوتی۔بیداری کے عالم میں انسان وہ کچھ دیکھتا ہے جو کہ وہ نیند کی حالت میں حواس کے معطل ہونے کے عالم میں دیکھتا تھا۔کشف اسے کہتے ہیں کہ انسان پر بیداری کے عالم میں ایک ایسی ربودگی طاری ہو کہ وہ سب کچھ جانتا بھی ہو اور حواس خمسہ اس کے کام بھی کر رہے ہوں اور ایک ایسی ہوا چلے کہ نئے حواس اسے مل جاویں جن سے وہ عالم غیب کے نظارے دیکھ لے۔وہ حواس مختلف طور سے ملتے ہیں۔کبھی بصر میں، کبھی شامہ (سونگھنے) میں کبھی سمع میں۔شامہ میں اس طرح جیسے کہ حضرت یوسف کے والد نے کہا لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ(یوسف:۹۵) (کہ مجھے یوسف کی خوشبو آتی ہے۔اگر تم یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا)۔اس سے مراد وہی نئے حواس ہیں جو کہ یعقوبؑکو اس وقت حاصل ہوئے اور انہوں نے معلوم کیا کہ یوسفؑ زندہ موجود ہے اور ملنے والا ہے۔اس خوشبو کو دوسرے پاس والے نہ سونگھ سکے کیونکہ ان کو وہ حواس نہ ملے تھے جو کہ یعقوبؑکو ملے۔جیسے گڑ سے شکر بنتی ہے اور شکر سے کھانڈ اورکھانڈ سے اور دوسری شیرینیاں لطیف در لطیف بنتی ہیں۔ایسے ہی رؤیا کی حالت ترقی کرتی کرتی کشف کا رنگ اختیارکرتی ہے اور جب وہ بہت صفائی پر آجاوے تو اس کا نام کشف ہوتا ہے۔کشف اور وحی میں فرق لیکن وحی ایسی شے ہے جو کہ اس سے بدرجہا بڑھ کر صاف ہے اور اس کے حاصل ہونے کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔کشف تو ایک ہندو کو بھی ہو سکتا ہے بلکہ ایک دہریہ بھی جو خدا کو نہ مانتا ہو وہ بھی اس میں کچھ نہ کچھ کمال حاصل کر لیتا ہے۔لیکن وحی سوائے مسلمان کے دوسرے کو نہیں ہو سکتی۔یہ اسی امت کا حصہ ہے۔کیونکہ کشف تو ایک فطرتی خاصہ انسان کا ہے اور ریاضت سے یہ حاصل ہو سکتا ہے خواہ کوئی کرے کیونکہ فطرتی امر ہے جیسے جیسے کوئی اس میں مشق اور محنت کرے گا ویسے ویسے اس پر اس کی حالتیں طاری ہوں گی اور ہر نیک و بد کو رؤیا کا ہونا اس امر پر دلیل ہے۔دیکھا ہوگا کہ سچی خوابیں بعض فاسق و فاجر لوگوں کو بھی آجاتی ہیں۔پس جیسے ان کو سچی خوابیں آتی ہیں ویسے ہی زیادہ مشق سے کشف بھی ان کو