ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 99

اگرچہ میں اپنے علم کے رو سے جانتا ہوں کہ اس کا حاصل ہونا کوئی کمالات میں سے نہیں ہے مگر تاہم اس کا خیال ہرگز دور نہیں ہوتا۔اس کے لیے کچھ شفاعت فرماویں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کا تعلق مجاہدات اور ریاضات سے ہے۔لیکن اب آپ کی عمر ان کی متحمل نظر نہیں آتی۔عالم شباب میں ایسے مجاہدات اور ریاضات انسان کر سکتا ہے جس سے اس پر یہ حالت جلد طاری ہو۔پیرانہ سالی میں قویٰ ضعیف ہوجاتے ہیں۔معدہ کام کرنے سے رہ جاتا ہے۔اس لیے مجاہدات میں استقامت حاصل نہیں ہوتی۔آپ کے مناسب حال اگر کوئی مجاہدہ ہے تو میری رائے میں یہ ہے کہ خلوت کے درمیان ذکر الٰہی اور توجہ الی اللہ کی کثرت کریں۔غیر اللہ کو قلب سے دفع کرنا اور اللہ تعالیٰ کو اس کا مسکن بنا لینا آسان بات نہیں ہے۔یہی بڑا مجاہدہ ہے۔بیہودہ مجلسوں اور قیل و قال سے الگ رہیے۔اور غفلت کے پردہ کو جو کہ انسان کی زندگی پر پڑے ہوئے ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔پیرانہ سالی کے لحاظ سے یہ عمدہ مجاہدہ ہے جس سے تزکیہ نفس ہو سکتا ہے کیونکہ اب اس عمر میں نوافل اور روزے وغیرہ کی برداشت مشکل ہے۔اصل مطلب میرا اس شعر میں خوب بیان ہے۔؎ لب بہ بند و گوش بند و چشم بند گر نہ بینی نور حق برما بخند کہ انسان اپنی زبان کو اور کانوں اور آنکھوں کو اپنے قابو میں ایسا کرے کہ سوائے رضائے حق کے اور ان سے کوئی فعل صادر نہ ہو۔انسانی زندگی میں جو بے اعتدالی ہوتی ہے اسے اعتدال پر لانا بڑا کام ہے۔اب اس وقت یہی مناسب حال ہے کہ خلوت بہت ہو اور ذکر الٰہی سے قلب غافل نہ ہو۔اگر انسان اس کی مداومت اختیار کرے تو آخر کار قلب مؤثر ہوجاتا ہے اور ایک تبدیلی انسان اپنے اندر دیکھتا ہے۔کشف رؤیا کا اعلیٰ درجہ ہے کشف کیا ہے یہ رؤیا کا ایک اعلیٰ مقام اورمرتبہ ہے اس کی ابتدائی حالت کہ جس میں غیبتِ حس ہوتی ہے صرف