ملفوظات (جلد 7) — Page 98
پس یاد رکھو کہ جب تک انسان خدا کا نہ ہو جاوے بات نہیں بنتی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جاتا ہے اس میں شتاب کاری نہیں رہتی۔مشکل یہی ہے کہ لوگ جلد گھبرا جاتے ہیں اور پھر شکوہ کرنے لگتے ہیں۔سائل۔ابتدائی منزل اس مقصد کے حصول کی کیا ہے؟ حضرت اقدس۔ابتدائی منزل یہی ہے کہ جسم کو اسلام کا تابع کرے۔جسم ایسی چیز ہے جو ہر طرف لگ سکتا ہے۔بتاؤ زمینداروں کو کون سکھاتا ہے جو جیٹھ ہاڑ کی سخت دھوپ میں باہر جا کر کام کرتے ہیں اور سخت سردیوں میں آدھی آدھی رات کو اٹھ کر باہر جاتے اور ہل چلاتے ہیں۔پس جسم کو جس طریق پر لگاؤ اسی طریق پر لگ جاتا ہے۔ہاں اس کے لیے ضرورت ہے عزم کی۔کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ مٹی کھایا کرتا تھا۔بہت تجویزیں کی گئیں مگر وہ باز نہیں رہ سکتا تھا۔آخر ایک طبیب آیا اور اس نے دعویٰ کیا کہ میں اس کو روک دوں گا۔چنانچہ اس نے بادشاہ کو مخاطب کر کے کہا اَیُّـھَا الْمَلِکُ اَیْنَ عَزْمُ الْمُلُوْکِ یعنی اے بادشاہ! وہ بادشاہوں والا عزم کہاں گیا؟ یہ سن کر بادشاہ نے کہا اب میں مٹی نہیں کھاؤں گا۔پس عزمِ مومن بھی تو کوئی چیز ہے۔سائل۔عزم کرتے تو آپ کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت اقدس۔بات یہ ہے کہ جب نفوس صافیہ کا جذب ہوتا ہے تو ممد و معاون بھی پیداہو جاتے ہیں۔صحابہؓ کے دل اچھے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک رسول بھی پیدا کر دیا۔ایسا ہی کہتے ہیں کہ مکہ سے جو مدینہ کی طرف ہجرت کی اس میں بھی یہی سِر تھا کہ وہاں کے اصلاح پذیر قلوب کا ایک جذب تھا۔۱ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۵ء (بوقتِ شب) پیرانہ سالی کے لحاظ سے عمدہ مجاہدہ ایک صاحب نے عرض کی کہ ایک عرصہ سے میرے دل میں خواہش ہے کہ کشف کی حالت طاری ہواور