ملفوظات (جلد 7) — Page 95
نہیں۔پھر امید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل دستگیری کرے گا اور اطمینان عطا فرمائے گا۔ان باتوں کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان تزکیہ نفس کرے جیسا کہ فرمایا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا(الشّمس:۱۰)۔سائل۔دعا جب تک دل سے نہ اٹھے کیا فائدہ ہوگا؟ حضرت اقدس۔میں اسی لیے تو کہتا ہوں کہ صبر کرنا چاہیے۔اور کبھی اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔خواہ دل چاہے یا نہ چاہے۔کشاں کشاں مسجد میں لے آؤ۔کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ میں نماز پڑھتا ہوں مگر وساوس رہتے ہیں۔اس نے کہا کہ تو نے ایک حصہ پر تو قبضہ کر لیا دوسرا بھی حاصل ہو جائے گا۔نماز پڑھنا بھی تو ایک فعل ہے اس پر مداومت کرنے سے دوسرا بھی انشاء اللہ مل جائے گا۔اصل بات یہ ہے کہ ایک فعل انسان کا ہوتا ہے اس پر نتیجہ مرتّب کرنا ایک دوسرا فعل ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔سعی کرنا مجاہدہ کرنا یہ تو انسان کا اپنا فعل ہے۔اس پر پاک کرنا استقامت بخشنا یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔بھلا جو شخص جلدی کرے گاکیا؟ کیا اس طریق پر وہ جلد کامیاب ہوجائے گا؟ یہ جلد بازی انسان کو خراب کرتی ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ دنیا کے کاموں میں بھی اتنی جلدی کوئی امر نتیجہ خیز نہیں ہوتا۔آخر اس پر کوئی وقت اور میعاد گذرتی ہے۔زمیندار بیج بو کر ایک عرصہ تک صبر کے ساتھ اس کا انتظار کرتا ہے بچہ بھی نو مہینے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ پہلی ہی خلوت کے بعد بچہ پیدا ہو جاوے تو لوگ اسے بیوقوف کہیں گے یا نہیں؟ پھر جب دنیوی امور میں قانونِ قدرت کو اس طرح پر دیکھتے ہو تو یہ کیسی غلطی اور نادانی ہے کہ دینی امور میں انسان بلا محنت و مشقت کے کامیاب ہو جاوے۔جس قدر اولیاء، ابدال، مرسل ہوئے ہیں انہوں نے کبھی گھبراہٹ اور بز دلی اور بے صبری ظاہر نہیں کی۔وہ جس طریق پر چلے ہیں اسی راہ کو اختیار کرو۔اگر کچھ پانا ہے بغیر اس راہ کے تو کچھ مل نہیں سکتا۔اور میں یقیناً کہتا ہوں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کو اطمینان جب نصیب ہوا ہے تو اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) پر عمل کرنے