ملفوظات (جلد 7) — Page 94
ع جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جا حقیقت میں جب تک انسان دعاؤں میں اپنے آپ کو اس حالت تک نہیں پہنچا لیتا کہ گویا اس پر موت وارد ہو جاوے۔اس وقت تک بابِ رحمت نہیں کھلتا۔خدا تعالیٰ میں زندگی ایک موت کو چاہتی ہے۔جب تک انسان اس تنگ دروازہ سے داخل نہ ہو کچھ نہیں۔خدا جوئی کی راہ میں لفظ پرستی سے کچھ نہیں بنتا بلکہ یہاں حقیقت سے کام لینا چاہیے۔جب طلب صادق ہوگی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے محروم نہ کرے گا۔سائل۔استقامت بھی تو ملنی چاہیے۔حضرت اقدس۔ہاں یہ سچ ہے کہ استقامت ہونی چاہیے اور یہ استقامت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم ہی سے ملتی ہے۔ایک ادنیٰ درجہ کا فقیر بھی ایک بخیل سے بخیل انسان کے دروازے پر جب دھرنا مارتا ہے تو کچھ نہ کچھ لے کر ہی اٹھتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ تو کریم رحیم خدا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ کوئی اس کے دروازہ پر گرے اور خالی اٹھے۔اگر چاہتے ہو کہ ساری مرادیں پوری ہو جاویں تو یہ تو اس کے ہی فضل سے ہوں گی۔بعض اوقات انسان کو یہ بھی دھوکا لگتا ہے کہ فلاں مراد پوری نہیں ہوئی۔حالانکہ بات یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ احتیاج سے ہی انسان کو بری کر دیتا ہے۔لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کا گذر ایک فقیر پر ہوا جس کے پاس صرف ستر پوشی کو چھوٹا سا پارچہ تھا مگر وہ بہت خوش تھا۔بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تو اس قدر خوش کیوں ہے؟ فقیر نے جواب دیا کہ جس کی ساری ہی مرادیں پوری ہو جاویں وہ خوش نہ ہو تو اور کون ہو؟ بادشاہ کو بڑی حیرانی ہوئی۔اس نے پوچھا کہ کیا تیری ساری مرادیں پوری ہوگئی ہیں؟ فقیر نے کہا کہ کوئی مراد ہی نہیں رہی۔حقیقت میں حصول دو ہی قسم کا ہوتا ہے۔یا پالے یا ترک۔غرض بات یہی ہے کہ خدا یابی اور خدا شناسی کے لیے ضروری امر یہی ہے کہ انسان دعاؤں میں لگا رہے۔زنانہ حالت اور بزدلی سے کچھ نہیں ہوتا۔اس راہ میں مردانہ قدم اٹھانا چاہیے۔ہرقسم کی تکلیفوں کے برداشت کرنے کو طیار ہونا چاہیے۔خدا تعالیٰ کو مقدم کر لے اور گھبرائے