ملفوظات (جلد 7) — Page 92
نہ شہادت نہ جرم ایک شخص نے بیان کیا کہ ایک احمدی بھائی سرحد پر مارے گئے ہیں وہ فوج میں نوکر تھے اور سرحدی لوگ جب ان کے افسر کو قتل کرنے آئے تو وہ پہرہ دے رہا تھا اس لئے ان لوگوں نے اوّل اسے قتل کیا۔کیا وہ شہید ہے یا کہ نہیں۔آپ نے فرمایا کہ شہادت تو اس موت کا نام ہے جو کہ دین کے لئے ہو باقی اغراض نفسانی کے لئے جو انسان جد و جہد کرتا ہے اور اس میں کامیاب اور ناکام بھی ہوتا ہے بعض وقت جان بھی جاتی ہے اس لئے اس کو نہ ہم شہادت کہتے ہیں اور نہ کوئی گناہ قرار دیتے ہیں۔۱ ۳؍مارچ ۱۹۰۵ء (قبل ظہر) بعض نکات معرفت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے مولوی محمد ابراہیم صاحب کو حضرت اقدس حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور پیش کیا۔مولوی صاحب موصوف نے حضرت مسیح موعودؑ سے چند استفسار کئے۔آپ نے ان کے جواب میں جو کچھ فرمایا وہ درج ذیل ہے۔سائل۔اطمینانِ قلب کیونکر حاصل ہو سکتا ہے؟ حضرت اقدس۔قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ (الرّعد:۲۹) پس جہاں تک ممکن ہو ذکر الٰہی کرتا رہے اسی سے اطمینان حاصل ہوگا۔ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا۔دیکھو! ایک کسان کس طرح پر محنت کرتا ہے اور پھر کس صبر اور حوصلہ کے ساتھ باہر اپنا غلہ بکھیر آتا ہے۔بظاہر دیکھنے والے یہی کہتے ہیں کہ اس نے دانے ضائع کر دیئے لیکن ایک وقت آجاتا ہے کہ وہ ان بکھیرے ہوئے دانوں سے ایک خرمن جمع کرتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتا ہے اور صبر کرتا ہے۔اسی طرح پر مومن