ملفوظات (جلد 6) — Page 90
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۰ ہرگز کام نہ آوے گی جب تک آنسو نہ بہیں ۔ سانپ کے زہر کی طرح انسان میں زہر ہے اس کا تریاق دعا ہے جس کے ذریعہ سے آسمان سے چشمہ جاری ہوتا ہے جو دعا سے غافل ہے وہ مارا گیا۔ ایک دن اور رات جس کی دعا سے خالی ہے وہ شیطان سے قریب ہوا۔ ہر روز دیکھنا چاہیے کہ جو حق دعاؤں کا تھا وہ ادا کیا ہے کہ نہیں ۔ نماز کی ظاہری صورت پر اکتفا کرنا نادانی ہے اکثر لوگ رسمی نماز ادا کرتے ہیں اور بہت جلدی کرتے ہیں جیسے ایک ناوا جب ٹیکس لگا ہوا ہے جلدی گلے سے اتر جاوے بعض لوگ نماز تو جلدی پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے بعد دعا اس قدر لمبی مانگتے ہیں کہ نماز کے وقت سے دگنا تگنا وقت لے لیتے ہیں حالانکہ نماز تو خود دعا ہے جس کو یہ نصیب نہیں ہے کہ نماز میں دعا کرے اس کی نماز ہی نہیں ۔ چاہیے کہ اپنی نماز کو دعا سے مثل کھانے اور سرد پانی کے لذیذ اور مزیدار کر لو ایسا نہ ہو کہ اس پر ویل ہو۔ فضائل نماز نماز خدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو اور خدا نماز خدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ برتو ۔ وفا اور صدق کا خیال رکھو اگر سارا گھر غارت ہوتا ہو تو ہو نے دو مگر نماز کو ترک مت کرو وہ کافر اور منافق ہیں جو کہ نماز کو منحوس کہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ نماز کے شروع کرنے سے ہمارا فلاں فلاں نقصان ہوا ہے۔ نماز ہرگز خدا کے غضب کا ذریعہ نہیں ہے جو اسے منحوس کہتے ہیں ان کے اندر خود زہر ہے جیسے بیمار کو شیرینی کڑوی لگتی ہے ویسے ہی ان کو نماز کا مزا نہیں آتا یہ دین کو درست کرتی ہے۔ اخلاق کو درست کرتی ہے۔ دنیا کو درست کرتی ہے نماز کا مزا دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے۔ لذات جسمانی کے لیے ہزاروں خرچ ہوتے ہیں اور پھر ان کا نتیجہ بیماریاں ہوتی ہیں اور یہ مفت کا بہشت ہے جو اسے ملتا ہے قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے ۔ نماز خواہ مخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کور بوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لیے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذت رکھ دی ہے جس سے یہ تعلق