ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 85

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۵ توہین کرتے ہیں ویسے ہی آج کل کے مسلمان بھی کرتے ہیں فرق یہ ہے کہ وہ مسیح کو خدا بناتے ہیں اور یہ خدا کے برابر ا سے قرار دیتے ہیں جیسے ایک میت پڑی ہوئی ہو تو ایک شخص تو اسے مردہ کہے گا دوسرا مردہ نہ کہے بلکہ مردہ والے صفات سب اس میں بتلاوے۔ مسیح کے بارے میں اس قدر غلو کیا گیا ہے کہ گویا عیسائیوں کے ساتھ ہاتھ ملا دیا ہے وہ توحید جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے اس کا نام تک ان میں نہیں رہا صلیبی مذہب کس زور سے پھیل رہا ہے جس کا ذکر میں نے ابھی چند دن ہوئے کیا تھا پس جب یہ حال ہے تو عقائد کی درستی بہت ضروری تھے ہے سچا، صحیح اور خدا کی مرضی کے موافق یہی مسئلہ ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو قرآن شریف باطل ٹھہرتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت جو بہت عزت کے قابل ہے یہ ہے کہ آپ اسے اموات میں بیٹی کے پاس دیکھ آئے اگر ان کی روح قبض نہیں ہوئی تھی تو دوسرے عالم میں کیسے چلے گئے قیام توحید کے لیے یہ مسئلہ بہت ضروری ہے کہ مسیح فوت ہو گئے اور جو اسے پورے یقین سے نہیں مانتا خطرہ ہے کہ وہ کہیں عیسائیت سے حصہ نہ لے لے یا ایک دن عیسائی ہی نہ ہو جائے انسان اسی طرح مرتد ہوا کرتا ہے کہ ایک ایک جزو چھوڑتا ہوا آخر کار گل چھوڑ دیتا ہے دوسرے عقائد میں بہت اختلاف نہیں ہے صرف یہی عظیم الشان بات ہے جو خدا نے بتلائی ہے کہ مسیح فوت ہو گیا ہے۔ جو لوگ اس بارہ میں ہماری مخالفت کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں بجز اقوال کے اور کچھ نہیں ہے اگر وہ کہیں کہ قرآن کے مخالف احادیث میں نزول کا لفظ موجود ہے تو جواب ہے کہ اول تو وہاں مِنَ السَّمَاءِ نہیں لکھا کہ وہ ضرور آسمان سے ہی آوے گا دوسرے احادیث تو مِنكُم سے بھی بھری پڑی ہیں نزول اصل میں اکرام اور جلال کا لفظ ہے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے لیے استعمال فرمایا ہے حتی کہ احادیث میں تو دجال کے لیے بھی نزول کا لفظ آیا ہے پھر کیا یہ سب آسمان سے آئے اور آویں گے۔ قرآن شریف سے یہی ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح دوبارہ نہ آوے گا بلکہ یہ بھی کہ وہ مر گیا جیسا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة: ۱۱۸ ) بتلا رہی ہے۔ دوسرا حصہ یہ ہے کہ انسان صرف عقائد سے ہی نجات نہیں پاتا بلکہ اس کے ساتھ اعمالِ صالحہ کا