ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 83

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۳ جلد ہماری تائید تو ہمیشہ خدا سے ہوتی ہے ورنہ جمہوری طور پر تو حکام کا میلان ہماری طرف کم ہی ہوتا ہے اور سوائے پروردگار کے اور کس کی ذات ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جا سکے۔ زمین پر کیسے ہی آثار نظر آویں مگر بار بار جو حکم آسمان سے آتا ہے کہ تری نَصْرًا مِّنْ عِنْدِ اللهِ وہ آخر ہو کر رہے گا۔ بنگر که خون ناحق پروانه شمع را چندان امان نداد که شب را سحر کند ! ۲۳ فروری ۱۹۰۴ء (بوقت شب) مقدمہ کی موجودہ صورت پر حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام ہر ایک معجزہ ابتلا سے وابستہ ہے نے فرمایا کہ یہ ایک ابتلا ہے کوئی مامور نہیں آتا جس پر ابتلا نہ آئے ہوں ۔ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قید کیا گیا اور کیا کیا اذیت دی گئی ۔ موسیٰ علیہ السلام ۔ ی گئی ۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا سلوک ہوا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محاصرہ کیا گیا مگر بات یہ ہے کہ عاقبت بخیر ہوتی ہے اگر خدا کی سنت یہ ہوتی کہ مامورین کی زندگی ایک تنعم اور آرام کی ہو اور اس کی جماعت پلاؤ زردے وغیرہ کھاتی رہے تو پھر اور دنیا داروں میں اور ان میں کیا فرق ہوتا پلاؤ زردے کھا کر حمدًا لِلهِ وَشُكْرًا للہ کہنا آسان ہے اور ہر ایک بے تکلف کہہ سکتا ہے لیکن بات یہ ہے جب مصیبت میں بھی وہ اسی دل سے کہے۔ مامورین اور ان کی جماعت کو زلزلے آتے ہیں ہلاکت کا خوف ہوتا ہے طرح طرح کے خطرات پیش آتے ہیں كَذَّبُوا کے یہی معنے ہیں دوسرے ان واقعات سے یہ فائدہ ہے کہ کچوں اور پکوں کا امتحان ہو جاتا ہے کیونکہ جو کچے ہوتے ہیں ان کا قدم صرف آسودگی تک ہی ہوتا ہے جب مصائب آئے تو وہ الگ ہو جاتے ہیں۔ میرے ساتھ یہی سنت اللہ ہے کہ جب تک ابتلا نہ ہو تو کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا خدا کا اپنے بندوں سے بڑا پیار یہی ہے کہ ان کو ابتلا میں ڈالے جیسے کہ وہ فرماتا ہے کبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ:۱۵۶ ، ۱۵۷) یعنی ہر ایک قسم البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۵