ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 82

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۲ لیکن یہ لوگ ادھر رخ نہیں کرتے۔ ہمیں کہتے ہیں کہ قرآن سے باہر ہیں حالانکہ قرآن ہی نے تو ہمیں اس کوچے میں کھینچا ہے صرف فرق اتنا ہے کہ ہمیں قرآن کے معنے وحی نے بتلائے ہیں۔ اس کے ہوتے ہوئے دیدہ دانستہ کیسے اپنی آنکھوں کو پھوڑ لیں۔ خدا تعالیٰ کا یہ فرض تھا کہ اگر عیسائی لوگ مسیح کی خدائی کے لیے خصوصیت پیدا کریں تو وہ اس کارڈ کرتا جیسے آدم کی مثال بیان کی ۔ کیا خدا کو اس خصوصیت کا علم نہ تھا کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے پھر اس کا اس نے کیوں رڈ نہ کیا اس طرح سے قرآن پر حرف آتا ہے اگر مسیح آسمان پر زندہ ہوتا اور عیسائی لوگ اس سے خدائی کی دلیل پکڑتے تو خدا ضرور بیان کرتا کہ فلاں فلاں انبیاء بھی آسمان پر زندہ موجود ہیں اس سے کوئی خدا نہیں بن سکتا جبکہ چالیس کروڑ انسان اسے آگے ہی خدا مان کر گمراہ ہو رہے ہیں تو تم نے ان کے ساتھ مل کر اور ہاں میں ہاں ملا کر اس کی خدائی پر اور مہر لگا دی۔ اس کا باعث صرف ان لوگوں کی بد عملی ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور۔ اور ایک ایک روپیہ لے کرفتوے بدل دیتے ہیں۔ اندرونی راست بازی بالکل نیست و نابود ہوگئی اور اب حدیث شریف کے موافق بالکل یہودی ہو گئے ہیں۔ یہ امید تو ہے نہیں کہ یہ لوگ ان سچائیوں کو مانیں ہاں ان کی ذریت اگر مانے تو مانے۔ اس کے بعد آپ نے مقدمات کا تذکرہ کیا کہ ان کی ابتدا کیوں کر ہوئی ۔ کس طرح اول کرم دین نے مولوی عبدالکریم صاحب کو بذریعہ خطوط اطلاع دی کہ مہر علی شاہ نے فیضی متوفی کی کتاب سے سرقہ کیا ہے۔ اس کی اطلاع پر کتاب نزول انا پر مسیح لکھی گئی۔ پھر اس نے اپنے خطوط کے برخلاف ایک مضمون سراج الاخبار میں لکھ کر سب و شتم کیا اور ان کو اپنی طرف منسوب کرنے سے انکاری ہوا۔ اس طرح سے ہمارا چلتا کام بند ہو گیا۔ تنگ آکر حکیم صاحب نے دعویٰ کیا پھر کرم دین نے جہلم میں ہم پر ایک مقدمہ کیا وہ بڑا خطرناک مقدمہ تھا۔ اس کے متعلق میں نے اوّل ہی خوابات دیکھے تھے جو کہ شائع ہو چکے ہوئے تھے اور قبل از وقت اس میں کامیابی کی خبر بھی خدا سے پا کر ہم نے شائع کر دی تھی۔ اس میں ہمیں کامیابی ہوئی۔ پھر کرم دین نے خود ہم پر استغاثہ دائر کیا۔ وہ مقدمات ابھی چل رہے ہیں۔ منصف حاکم کو تو خود خبر نہیں ہوتی کہ انجام کار مقدمہ کی کیا صورت ہوگی ۔