ملفوظات (جلد 6) — Page 81
ملفوظات حضرت مسیح موعود M جلد اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ کتاب اللہ جس کا ایک ایک لفظ یقینی ہے وہ وفات مسیح علیہ السلام علیہ وفات مسیح کو بیان کرتی ہے۔ احادیث کا اجماع بھی یہی ہے اگر کوئی زندہ ہوتا تو صحابہؓ کو اس سے بڑھ کر اور کیا رنج ہوتا کہ صاحب شریعت سرو را نبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں مدفون ہوں اور ایک نبی جو کہ صاحب شریعت نہیں اور موسوی شریعت کا تابع وہ آسمان پر زندہ موجود ہو اور اس امت کے اختلاف مٹانے اور فیصلہ کرنے کے لیے وہی آسمان سے آوے۔ اب پوچھو کہ خاتم الانبیاء کون ہوا حضرت مسیح یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم؟ مگر پھر بھی یہ لوگ جو باز نہیں آتے تو معلوم ہوا کہ شامت اعمال ہے۔ تقویٰ تو نہیں رہی تھی ۔ عقل سلیم بھی ان میں نہیں رہی دنیوی عقل کے لیے تقویٰ کی ضرورت نہیں ہے مگر دین کے لیے ضرورت ہے۔ اس لیے یہ لوگ دین کی باتوں کو بھی نہیں سمجھتے ۔ خدا تعالیٰ اسی کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) یعنی اندر گھسنا تو در کنار مس کرنا بھی مشکل ہے جب تک انسان مطہر یعنی متقی نہ ہوئے ۔ احادیث میں منکم ہے ، قرآن میں مِنْكُمْ ہے۔ پھر بغیر نظیر کے کوئی بات نہیں مانی جاتی ۔ عیسائیوں نے جب مسیح کے بن باپ ہونے سے اس کی خدائی کا استدلال کیا تو خدا تعالیٰ نے نظیر بتلا کر ان کی بات کو رد کر دیا ۔ فرمایا إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ (ال عمران: ۶۰ ) کہ اگر بن باپ ہونے سے انسان خدا ہو سکتا ہے تو آدم کی تو ماں بھی نہ تھی اسے خدا کیوں نہیں مان لیتے ۔ پس جب نصاری کی اس بات کو خدا نے رد کر دیا تو اگر مسیح بھی واقعی آسمان پر زندہ ہوتا اور عیسائی اسے خدائی کی دلیل گردانتے تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی رڈ کرتا اور چند ایک نظائر پیش کرتا کہ فلاں فلاں اور نبی زندہ آسمان پر موجود ہیں ۔ ہر ایک پہلو سے ان لوگوں پر اتمام حجت ہو چکا ہے۔ اب یہ لوگ مصداق صم بكم عمی کے ہیں۔ بھلا دیکھو تو جس حال میں کہ میں زندہ موجود ہوں کیا یہ ان کا حق نہ تھا کہ مجھ سے آکر سوال کرتے پوچھتے اور اپنے شکوک و شبہات پیش کرتے۔ میں نے بار ہا لکھا کہ ان کے اخراجات سفر دینے کو میں طیار ہوں یہاں آویں مکان بھی دوں گا حتی الوسع مہمان نوازی بھی کروں گا -