ملفوظات (جلد 6) — Page 81
سکتا ہے کہ میں اتنے برس ضرور زندہ رہوں گا۔پھر جتنے وعدے براہین میں تھے ان میں سے اکثر پورے ہوگئے ہیں اور کچھ ابھی باقی ہیں۔اگر انسان کا کاروبار ہوتا تو اس قدر نصرت کب شاملِ حال ہوسکتی اور وہ وعدے اگر خدا کی طرف سے نہ تھے تو کیسے پورے ہوکر رہتے۔پس وقت کو،زمانہ کو،ضلالت کو، اندرونی اور بیرونی حالت کو دیکھو تو خود پتا لگ جاتا ہے۔مخالفوں سے ہم ناراض نہیں ہیں کیونکہ راستی کا مقابلہ جان توڑ کر ہوا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھو کس قدر مقابلہ ہوا لیکن کیا مسیلمہ کی بھی مخالفت ہوئی۔۱ ۲۲؍فروری۱۹۰۴ء (بوقتِ شام) مامورین کی زندگی میں ابتلا مقدمات کی نسبت آپ نے فرمایا کہ یہ ایک منجانب اللہ ابتلا تھا جو کہ پیش آگیا۔سنّت اللہ اسی طرح سے ہے کہ مامورین کی زندگی یونہی اسی طرح آسائش سے نہیں گذرتی کہ وہ دنیا میں بےکار رہیں۔پھر آپ نے مولویوں کی حالت پر فرمایا کہ ان لوگوں کے اعمال اور منبروں پر چڑھ چڑھ کر خطبے پڑھنے سے ہمیں تعجب آتا ہے کہ آخر ان کے اعمال کا نتیجہ کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال پر بھی زنگ ہوتا ہے جس سے انسان کے صحیح عقائد بھی نظر نہیں آسکتے۔وفاتِ مسیح علیہ السلام اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ کتاب اللہ جس کا ایک ایک لفظ یقینی ہے وہ وفاتِ مسیح کو بیان کرتی ہے۔احادیث کا اجماع بھی یہی ہے اگر کوئی زندہ ہوتا تو صحابہ ؓ کو اس سے بڑھ کر اور کیا رنج ہوتا کہ صاحبِ شریعت سرورِ انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں مدفون ہوں اور ایک نبی جو کہ صاحبِ شریعت نہیں اور موسوی شریعت کا تابع وہ آسمان پر زندہ موجود ہو اور اس امّت کے اختلاف مٹانے اورفیصلہ کرنے کے لیے وہی آسمان سے آوے۔اب پوچھو کہ خاتم الانبیاء کون ہوا حضرت مسیح یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم؟ مگر پھر بھی یہ لوگ جو باز