ملفوظات (جلد 6) — Page 80
یہ زمانہ اسلام کی بہار کا ہے۔اگر ہم چُپ بھی کریں تو خدا باز نہ آوے گا اور اصل میں ہم کیا کرتے ہیں وہ تو سب کچھ خدا ہی کررہا ہے۔ہم تو صرف اسی لیے بولتے اور لکھتے ہیں کہ ثواب ہو۔اب اس کے فضل کا دروازہ کھل گیا ہے اور خدا نے جو ارادہ کر لیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔دیکھو نہ ہمارے واعظ ہیں نہ لیکچرار ہیں نہ انجمنیں ہیں مگر جماعت ترقی کر رہی ہے۔ہزاروں نے صرف خواب کے ذریعہ سے بیعت کی۔کوئی ان کو بتلانے اور سمجھانے والا نہ تھا۔آخر خدا نے دستگیری کی۔کیا ہماری طاقت تھی کہ ہم یہ سب کچھ کر لیتے؟یہ اسی کا ہاتھ ہے جو کر رہا ہے۔صدق ایسی شَے ہے کہ انسان کے دل کے اندر جب گھر کر جاوے تو اس کا نکلنا مشکل ہے۔جو لوگ ہمارے عقائد کو بعد تحقیق قبول کر لیتے ہیں تو جان سے زیادہ ان کو عزیز جانتے ہیں ایک نمونہ مولوی عبد اللطیف ہیں کہ ہزاروں مرید رکھتے تھے۔ریاست ان کی تھی۔دولت بھی بے شمار تھی۔شاہی دستار بند تھے۔سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر موت قبول کی۔کیا یہ قوت اور برکت جھوٹ میں ہوسکتی ہے؟کیا بجز سچائی کے اور بھی کسی میں یہ طاقت ہے؟ یہاں(پنجاب میں) بھی بہت سے لوگ ہیں کہ صرف ایمان کے لیے تکلیف دیئے جاتے ہیں۔قوم، برادری اور گائوں والے ان کو طرح طرح کی اذیت صرف اسی لیے دیتے ہیں کہ انہوں نے سچ کو قبول کیا ہے پس اگر خدا دلوں میں نہیں ڈالتا تو وہ ان مصائب کو کیوںکر برداشت کرتے ہیں یہاں تک کہ حقیقی باپ اور بھائی بھی ان لوگوں سے الگ ہو جاتے ہیں بعض ایسے ہیں کہ ۲؍ (دو آنے) روز محنت کرکے کماتے ہیں اور اس میں سے۔؍ (دو پیسے) ہمیں چندہ دیتے ہیں۔تہجد پڑھتے ہیں نمازوں کے پابند ہیں۔خدا کے آگے تضرع اور ابتہال کرتے ہیں۔اب سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ ان کو نورِایمان عطا کرے اور دلوں میں صدق ڈالے یہ سب کچھ کب حاصل ہوسکتا ہے۔دیکھنے اور سمجھنے کے لیے تو ایک نشان کتاب براہین ہی بس ہے جیسے کہتے ہیں کہ ع حرفے بس است اگر درخانہ کس است سمجھ دار آدمی کے لیے ایک ہی بات کافی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے عمر کاوعدہ دیا۔بتلائو کوئی کہہ ۱البدر جلد ۳نمبر۱۰مورخہ ۸؍ مارچ ۱۹۰۴ءصفحہ۳،۴