ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 80

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۰ جلد ششم نمازوں کے پابند ہیں۔ خدا کے آگے تضرع اور انتہال کرتے ہیں۔ اب سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ ان کو نور ایمان عطا کرے اور دلوں میں صدق ڈالے یہ سب کچھ کب حاصل ہو سکتا ہے۔ دیکھنے اور سمجھنے کے لیے تو ایک نشان کتاب براہین ہی بس ہے جیسے کہتے ہیں کہ مع حرفے بس است اگر در خانه کس است سمجھ دار آدمی کے لیے ایک ہی بات کافی ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے عمر کا وعدہ دیا۔ بتلاؤ کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں اتنے برس ضرور زندہ رہوں گا۔ پھر جتنے وعدے براہین میں تھے ان میں سے اکثر پورے ہو گئے ہیں اور کچھ ابھی باقی ہیں۔ اگر انسان کا کاروبار ہوتا تو اس قدر نصرت کب شامل حال ہو سکتی اور وہ وعدے اگر خدا کی طرف سے نہ تھے تو کیسے پورے ہو کر رہتے۔ پس وقت کو ، زمانہ کو ضلالت کو ، اندرونی اور بیرونی حالت کو دیکھو تو خود پتا لگ جاتا ہے۔ مخالفوں سے ہم ناراض نہیں ہیں کیونکہ راستی کا مقابلہ جان توڑ کر ہوا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھو کس قدر مقابلہ ہوا لیکن کیا مسیلمہ کی بھی مخالفت ہوئی ۔ لے ۲۲ فروری ۱۹۰۴ء (بوقت شام) مامورین کی زندگی میں ابتلا مقدمات کی نسبت آپ نے فرمایا کہ یہ ایک منجانب اللہ ابتلا تھا جو کہ پیش آگیا۔ سنت اللہ اسی طرح سے ہے کہ مامورین کی زندگی یونہی اسی طرح آسائش سے نہیں گذرتی کہ وہ دنیا میں بے کار رہیں ۔ پھر آپ نے مولویوں کی حالت پر فرمایا کہ ان لوگوں کے اعمال اور منبروں پر چڑھ چڑھ کر خطبے پڑھنے سے ہمیں تعجب آتا ہے کہ آخران کے اعمال کا نتیجہ کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال پر بھی زنگ ہوتا ہے جس سے انسان کے صحیح عقائد بھی نظر نہیں آسکتے ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۳، ۴