ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 79

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۹ جلد ششم بگڑے ہوؤں کا اتفاق اور شہادت کیا حکم رکھتی ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں مسیح کو معراج میں مردوں میں دیکھ آیا ہوں اور پھر قرآن شریف سے وفات ثابت ہے پس آنحضرت کا فعل اور خدا کا قول دونوں سے وفات ثابت ہے بھی تو مر چکے ہیں ان کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ کو دیکھا ہے پس اتنی دیر تک جو مُردہ کے پاس بیٹھا رہا وہ کیسے زندہ ہو سکتا ہے علاوہ ازیں خدا فرماتا ہے کہ بلا نظیر کے کوئی بات قبول نہ کر و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے لیے اس نے نظائر پیش کئے مسیح کی حیات کے لیے بھی کوئی نظیر ہونی چاہیے تھی ۔ یہ زمانہ اسلام کی بہار کا ہے۔ اگر ہم چپ بھی کریں تو خدا باز نہ آوے گا اور اصل میں ہم کیا کرتے ہیں وہ تو سب کچھ خدا ہی کر رہا ہے۔ ہم تو صرف اسی لیے بولتے اور لکھتے ہیں کہ ثواب ہو۔ اب اس کے فضل کا دروازہ کھل گیا ہے اور خدا نے جو ارادہ کر لیا ہے وہ ہوکر رہے گا۔ دیکھو نہ ہمارے واعظ ہیں نہ لیکچرار ہیں نہ انجمنیں ہیں مگر جماعت ترقی کر رہی ہے۔ ہزاروں نے صرف خواب کے ذریعہ سے بیعت کی ۔ کوئی ان کو بتلانے اور سمجھانے والا نہ تھا۔ آخر خدا نے دستگیری کی۔ کیا ہماری طاقت تھی کہ ہم یہ سب کچھ کر لیتے ؟ یہ اسی کا ہاتھ ہے جو کر رہا ہے۔ صدق ایسی شے ہے کہ انسان کے دل کے اندر جب گھر کر جاوے تو اس کا نکلنا مشکل ہے۔ جو لوگ ہمارے عقائد کو بعد تحقیق قبول کر لیتے ہیں تو جان سے زیادہ ان کو عزیز جانتے ہیں ایک نمونہ مولوی عبداللطیف ہیں کہ ہزاروں مرید رکھتے تھے۔ ریاست ان کی تھی۔ دولت بھی بے شمار تھی ۔ شاہی دستار بند تھے۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر موت قبول کی ۔ کیا یہ قوت اور برکت جھوٹ میں ہو سکتی ہے؟ کیا بجر سچائی کے اور بھی کسی میں یہ طاقت ہے؟ یہاں ( پنجاب میں ) بھی بہت سے لوگ ہیں کہ صرف ایمان کے لیے تکلیف دیئے جاتے ہیں۔ قوم ، برادری اور گاؤں والے ان کو طرح طرح کی اذیت صرف اسی لیے دیتے ہیں کہ انہوں نے سچ کو قبول کیا ہے پس اگر خدا دلوں میں نہیں ڈالتا تو وہ ان مصائب کو کیوں کر برداشت کرتے ہیں یہاں تک کہ حقیقی باپ اور بھائی بھی ان لوگوں سے الگ ہو جاتے ہیں بعض ایسے ہیں کہ ۲ ( دو آنے ) روز محنت کر کے کماتے ہیں اور اس میں سے م ( دو پیسے ) ہمیں چندہ دیتے ہیں۔ تہجد پڑھتے ہیں