ملفوظات (جلد 6) — Page 78
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۸ جلد ششم محال ہے مگر میں سناتا ہوں کہ خدا سب کچھ کر سکتا ہے ابھی اس کے پاس بہت سی راہیں ہوں گی جن سے یہ فتنہ مٹے گا اور ان کا ہمیں علم نہیں ۔ ہمارا اس بات پر ایمان چاہیے کہ اس کے وعدے برحق ہیں اگر تمام اسباب اس کے منافی نظر آویں پھر بھی اس کا وعدہ سچا ہے اگر ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ نہ ہو پھر بھی اس کا وعدہ سچا ہے۔ وعدہ اس کا کمزور ہو سکتا ہے جس کی قدرت اور اختیار کمزور ہو ہمارے خدا میں کوئی کمزوری نہیں ہے وہ بڑا قادر ہے اور اس کی حرکت جاری ہے ہماری جماعت کو چاہیے کہ اسی ایمان کو ہاتھ میں رکھے۔ بعض وقت جماعت پر ابتلا بھی آتے ہیں اور تفرقہ پڑ جایا کرتا ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مکہ، مدینہ، جبش کی طرف منتشر ہو گئے تھے لیکن آخر خدا تعالیٰ نے ان کو پھر ایک جا جمع کر دیا۔ ابتلا اس کی سنت ہے اور ایسے زلزلے آتے ہیں کہ مَتی نَصُرُ اللهِ (البقرۃ:۲۱۵) کہنا پڑتا ہے اور بعض کا خیال اس طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ ممکن ہے وہ وعدے غلط ہوں مگر انجام کا رخدا کی بات سچی نکلتی ہے۔ یہ سلسلہ اپنے وقت پر آسمان سے قائم ہوا ہے اگر اور سب دلائل کو نظر انداز حقانیت احمدیت کر دیا جاوے تو صرف وقت ہی بڑی دلیل ہے صدی سے ۲۰- سے سال بھی گزر گئے خدا کا وعدہ قرآن شریف اور احادیث میں ہے کہ وہ مسیح صلیبی فتنہ کے وقت پیدا ہو گا اب ان فتنوں کا زور دیکھ لو۔ رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۳۰ لاکھ مرتد موجود ہے حالانکہ اس سے پیشتر اگر اہل اسلام میں ایک مرتد ہوتا تو قیامت آجاتی ۔ کیا اس وقت بھی خدا خبر نہ لے۔ پھر عملی حالت کو دیکھ لو کہ کسی قدر رڈی ہے۔ نام کو تو مسلمان ہیں مگر کر توت یہ ہے کہ بھنگ چرس وغیرہ نشوں میں مبتلا ہیں کیا اب بھی وقت نہیں ہے عیسائی لوگ بھی منتظر ہیں اور یہی وقت بتلاتے ہیں اہل کشف نے بھی یہی لکھا ہے قرائن و علامات بھی اسی کو بتلا رہے ہیں اگر اس وقت خدا خبر نہ لیتا تو دنیا میں یا ضلالت ہوتی یا عیسویت جو قرآن پر اور اللہ پر ایمان لاتا ہے اسے ماننا پڑتا ہے لیکن جو یہود کی طرح وقت کو ٹالنے والے ہیں وہ محروم رہتے ہیں۔ سواد اعظم کی حقیقت پھر ای دلی سواد اعظم کی پیش کرتے ہیں کہ وہ برخلاف ہے۔ نادان اتنا نہیں جانتے کہ مصلح تو اسی وقت آتا ہے جب لوگ بگڑ جاویں اب