ملفوظات (جلد 6) — Page 77
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد کرنی ہے۔ لوگوں کو کچھ ملانوں نے خراب کیا ہے کچھ جاہل فقیروں نے اور بعض لوگ لنگوٹی پوشوں کے معتقد ہوتے ہیں۔ کچھ ہی کیوں نہ ہو خدا کے کام رکا نہیں کرتے۔ اگر ایک شخص زمین پر باغ بناتا ہے تو اوّل دیکھ لیتا ہے کہ باغ کے قابل زمین ہے کہ نہیں۔ اگر اسے بنجر پاتا ہے تو صاف کرتا اور پھوڑتا اور ڈھیلوں کو توڑتا تاڑتا ہے تب باغ بناتا ہے۔ پس وہ مالک الملک جو کہ اب یہ باغ طیار کرنے لگا ہے آخر اس نے دیکھ لیا ہو گا کہ کچھ سعید طبائع بھی ہیں اسی تعلیم کی برکت سے کئی لوگ ہماری کتب کو دیکھ کر ہدایت پاگئے ہیں حالانکہ ابتدا میں سخت مخالف تھے۔ خدا کے وعدے برحق ہیں ایک عقلمند بیشک گھبراہٹ میں پڑتا ہے کہ صلیبی فتنے اور کارروائیاں حد درجہ تک ترقی کر چکی ہیں ان کی کتابیں دور دور تک پھیل گئی ہیں ۔ مجموعی حالت میں ان کی جان توڑ کوششوں کو دیکھا جاتا ہے تو نا امیدی ہو جاتی ہے کہ الہی ان کا استیصال کیسے ہوگا اور صفحہ زمین پر توحید کیسے پھیلے گی ۔ کل اسباب اسلام کے ضعف کے موجود ہیں اور صلیب کا زور ہے مگر ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اس کا ارادہ ہو کر رہتا ہے اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( البقرة : ۱۰۷) صرف ایک ہی بات ہے جو بھروسہ دلاتی ہے اگر چہ کیسے ہی مشکلات آپڑیں اور عقل فتوے دیوے کہ اب اسلام دوبارہ قائم نہیں ہو سکتا لیکن میں اس بات کو نہیں مانتا۔ جب خدا ارادہ کرتا ہے تو کر کے رہتا ہے اس قسم کی رائیں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں اور غلط بھی ثابت ہو رہی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں مبعوث ہوئے کیا ان کی نسبت اہل الرائے کی یہ رائے تھی کون تھا جو یقین کرتا کہ ایک غریب ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس نہ قوت، نہ شوکت ، نہ فوج ، نہ مال ہے اور ہر طرف مخالفت ہے وہ کامیاب ہوکر رہے گا اور جو وعدے فتح اور نصرت اور اقبال مندی کے وہ دیتا ہے پورے ہو کر رہیں گے مگر باوجود اس نا امیدی کے پھر کیسی امید بندھ گئی اور تمام وعدے پورے ہو گئے ۔ اليوم ۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدۃ: ۴) کی گواہی مل گئی اور پھر إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ( النصر : ٢) کی سورۃ نازل ہوئی ایسے ہی ممکن ہے کہ کوئی ہماری جماعت کا یہ خیال کر بیٹھے کہ اس صلیبی جال کا ٹوٹنا