ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 77

دنیا میں فسق وفجور اور شوخی وآزادی، خودروی بہت بڑھ گئی ہوئی ہے تاہم یہ لوگ جو ہمارے سلسلہ میں آتے ہیں یہ بھی اسی جماعت میں سے نکل نکل کر آتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعید بھی انہی میں ملے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کو نکال لے گا اور ان کو سمجھ دے گا اور کچھ طاعون کا نشانہ ہو جائیں گے اسی طرح پر دنیا کا انجام ہوگا اور اتمامِ حجّت ہوگی۔۱،۲ اس مقام پر جناب محمد ابراہیم خان صاحب بن حاجی موسیٰ خان برادر زادہ خان بہادر مراد خان مرحوم نے کراچی (علاقہ سندھ)کا ذکر کیا کہ وہاں کے لوگ بہت غافل ہیں اور ان کو ان باتوں کا علم ہی نہیں ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ مطلق جاہل سے انسان گھبرا جاتا ہے۔بہرحال کچھ تو پڑھے لکھے وہاں ہیں اور انگریزی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے اگرچہ انگریزوں کی تعلیم کا مضراثر کتنا ہی کیوں نہ ہو مگرتاہم یہ فائدہ ضرور ہے کہ فہم میں وسعت اور باتوں کے سمجھنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے اور ہمیں ایسے ہی آدمیوں کی ضرورت ہے۔رفتہ رفتہ پیدا ہو ہی جاویں گے۔وحشی لوگ جن کو کھانے پینے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے ان سے انسان کیا کلام کرسکتا ہے۔اس تعلیم یافتہ گروہ پر اگرچہ دنیا کا حجاب ہے مگرتاہم سعید فطرت لوگ سمجھ سمجھ کر ہماری طرف آرہے ہیں۔اب ہماری جماعت کا ایک حصّہ انہی میں سے ہے۔ہم خود تو کسی کو یہاں بیٹھے ہوئے بلا نہیں رہے آخر خود ہی سمجھ کر آرہے ہیں۔غرضیکہ فہم اور عقل والے پر بڑی امید ہوتی ہے۔نرے ڈنگر (بیل)سے انسان نے کیا بات کرنی ہے۔لوگوں کو کچھ ملانوں نے خراب کیا ہے کچھ جاہل فقیروں نے اور بعض لوگ لنگوٹی پوشوں کے معتقد ہوتے ہیں۔کچھ ہی کیوں نہ ہو خدا کے کام رکا نہیں کرتے۔اگر ایک شخص زمین پر باغ بناتا ہے تو اوّل دیکھ لیتا ہے کہ باغ کے قابل زمین ہے کہ نہیں۔اگر اسے بنجر پاتا ہے تو صاف کرتا اور پھوڑتا اور ڈھیلوں کو توڑتا تاڑتا ہے تب باغ بناتا ہے۔پس وہ مالک الملک جو کہ اب یہ باغ طیار کرنے لگا ہے آخر اس نے دیکھ لیا ہوگا کہ کچھ سعید طبائع بھی ہیں اسی تعلیم کی برکت سے کئی لوگ ہماری کتب کو دیکھ کر ہدایت پاگئے ہیں حالانکہ ابتدا میں سخت مخالف تھے۔