ملفوظات (جلد 6) — Page 75
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۵ جلد ہو جاتی ہے۔ مومنوں کو كُلُوا وَاشْرَبُوا (الاعراف: ۳۲) کا حکم دیا اور جو خدا کے لیے نماز نہیں پڑھتے ان کو وَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ ( الماعون : ۵) فرمایا ۔ کلوا ایک امر ہے جب مومن اس کو امر سمجھ کر بجالا وے تو اس کا ثواب ہوگا ۔ اسی طرح عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء : ٢٠) امر کی بجا آوری سے ثواب ہوتا ہے لیکن اگر ریا کاری سے نماز بھی ادا کرے تو پھر اس کے لیے ویل ہے۔' احیاء دین کا سلسلہ اس وقت اسلام جس چیز کا نام ہے اس میں فرق آ گیا ہے۔ تمام اخلاق ذمیمہ بھر گئے ہیں اور وہ اخلاص جس کا ذکر مُخْلِصِينَ لَهُ الدين (البيئة :۶ ) میں ہوا ہے آسمان پر اُٹھ گیا ہے۔ ہے خدا کے ساتھ صدق ، وفاداری، اخلاص ، محبت اور خدا پر توکل کالعدم ہو گئے ہیں ۔ اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ پھر نئے سر سے ان قوتوں کو زندہ کرے وہ خدا جو ہمیشہ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید: ۱۸) کرتا رہا ہے اس نے ارادہ کیا ہے اور اس کے لیے کئی راہیں اختیار کی گئی ہیں۔ ایک طرف مامور کو بھیج دیا ہے جو نرم الفاظ میں دعوت کرے اور لوگوں کو ہدایت کرے۔ دوسری طرف علوم وفنون کی ترقی ہے اور عقل آتی جاتی ہے اب وہ وحشیانہ حالت سکھوں کے زمانہ کی سی نہیں رہی اور لوگ سمجھنے لگے ہیں۔ ایک طرف اتمام حجت کے لیے آسمان نشان ظاہر کر رہا ہے ۔ چنانچہ جب کتاب نزول المسيح۔ مسیح چھپ کر شائع ہوگی ۔ اس وقت سب کو پتا لگ جائے گا کیونکہ اس میں ڈیڑھ سو کے قریب ایسے نشانات لکھے ہیں جن کے ہزاروں لاکھوں گواہ موجود ہیں۔ اور پھر قہری نشانات کا سلسلہ بھی رکھا گیا ہے جن میں سے طاعون کا بھی ایک نشان ہے اور اب جو اس شدت سے پھیل رہی ہے کہ کبھی لے البدر میں ہے۔ ”کل اوامر کے بجالانے کا ثواب ملتا ہے جس قدر کاموں کو خدا کے حکم سے اور ان کے موافق کرے گا ان سب کا اجر پاوے گا ورنہ باقی امور پر جو ریا وغیرہ کے لیے کئے جاتے ہیں اگر چہ بظاہر ان کی صورت اوامر کے مطابق ہوتی ہے عذاب اور ویل ہیں ۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۳) البدر میں ہے۔ ”اب یہ زمانہ ہے کہ اس میں ریا کاری ، معجب ، خود بینی ، تکبر نخوت ، رعونت وغیرہ صفات رذیلہ تو ترقی کر گئے ہیں اور مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين وغیرہ صفات حسنہ جو تھے وہ آسمان پر اٹھ گئے ۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ء صفحه (۳)