ملفوظات (جلد 6) — Page 70
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٧٠ جلد بے حیائیوں اور بدکاریوں میں مبتلا ہیں اور وہ تقویٰ اور خدا ترسی سے ہزاروں کوس دور جا پڑے ہیں اور جو رسمی طور پر دیندار کہلاتے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب وسنت سے الگ ہو رہے ہیں۔ اپنے خیال اور رائے سے جو جی میں آتا ہے کر گزرتے ہیں اور حقیقت اور مغز کو چھوڑ کر پوست اور ہڈیوں کو لیے بیٹھے ہیں ۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کے موافق ایک عذاب بھیجا ہے کیونکہ وہ ایسی حالت میں قیامت سے پہلے اسی دنیا کو قیامت بنا دیتا ہے اور ایسی خوفناک صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ زندگی قیامت کا نمونہ ہو جاتی ہے اور اب یہ وہی دن ہیں کیونکہ میں دیکھتا ہوں سچائی سے بجائے محبت کے بغض کیا جاتا ہے اور عملی حالتیں خراب ہو چکی ہیں ۔ غلط اعتقادات پر ایسا زور دیا گیا ہے کہ حد اعتدال سے بہت تجاوز ہو گیا ہے اور اس حالت پر پہنچ گیا ہے جس کو اعتدا کہتے ہیں۔ ساری قوموں کو دیکھو کہ تیرہ سو برس سے بالکل خاموش اور اسلام پر عیسائیت کی یلغار چپ چاپ تھے اگر چہ اسلام کے ساتھ ان کی لڑائیاں بھی ہوتی رہیں مگر وہ شوخیاں اور شرارتیں جواب اسلام کے استیصال اور نابود کرنے کے واسطے کی جاتی ہیں نہیں کی جاتی تھیں اور وہ مذہبی زہر نہ تھا جو آج ہے۔ پچاس برس پہلے اگر ان کتابوں کو تلاش کریں جو اسلام کے خلاف لکھی گئی تھیں تو شائد ایک لے بھی نہ ملے لیکن اب اس قدر کتا بیں ، اخبارات اور رسالے، اشتہارات نکلتے ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جاوے تو ایک پہاڑ بن جاوے۔ بعض پرچے جاوے۔بعض عیسائیوں کے کئی کئی لاکھ طبع ہوتے ہیں ۔ کے جن میں ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے ۔ ایسا مجدد مصلح اور پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو ایسے وقت آیا جبکہ دنیا نجاست سے بھری ہوئی تھی اس وقت آپ نے دنیا کو پاک صاف کیا اور اس مردہ عالم کو زندہ کیا۔ اس کی پاک شان میں وہ پخش گالیاں دی جاتی ہیں جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر میں سے کبھی کسی کو نہیں دی گئیں ۔ وو ل البدر میں ہے۔ اور آج سے ایک صد سال پہلے تلاش کرو تو ایک سو کتب بھی ان کی ایسی نہ ملیں گی جو تر دید اسلام یہاں شائع ہوئی ہوں ۔ البدر سے۔ بعض دفعہ ایک ہی بار لاکھ لاکھ کتب چھاپ کر ان لوگوں نے مفت شائع کی ہیں ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴)