ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 70

ہیں یہ عذاب پیچھا چھوڑتا نظر نہیں آتا لیکن جب انسان توبہ اور استغفار کرتا ہے اور اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کا نمونہ دکھاتا ہے تو پھر خدا بھی رجوع برحمت کرتا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اسی طرح فسق وفجور کا بازار گرم ہے اور قِسم قِسم کے گناہ اس زمین پر ہورہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی عذاب الٰہی کی طیاریاں ہو رہی ہیں۔پہلی کتابوں میں بھی اس وبا کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ قیامت کے قریب عام مَری پڑے گی سو اب وہ دن قریب آگئے ہیں اور مَری پڑرہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب زمانہ کا آخر ہے۔اس بات کو مکرر یاد رکھو کہ جب بخل و حسد اور فسق وفجور کی زہریلی ہوا پھیل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہوجاتی ہے اور جس طرح پر اللہ تعالیٰ سے ہراساں وترساں ہونا چاہیے وہ نہیں رہتا۔یہ ہوا ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بعض اوقات ہیضہ کی زہریلی ہوا پھیلتی ہے اور تباہ کرتی جاتی ہے اس وقت بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بعض جو بچ رہتے ہیں ان کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ صحت درست نہیں رہتی۔ہاضمہ کا فتور یا اور اسی قسم کی خرابیاں ہوا سے متاثر ہو کرپیدا ہو جاتی ہیں۔اسی طرح پر جب گناہ کی وبا پھیلتی ہے تو بعض تو اس میں بالکل ہلاک ہو جاتے ہیں اور جو بچ رہتے ہیں ان کی بھی روحانی صحت میں فرق آجاتا ہے۔سو یہی حال اب ہورہا ہے۔اکثر ہیں جو کھلے طور پر بے حیائیوں اور بدکاریوں میں مبتلا ہیں اور وہ تقویٰ اور خدا ترسی سے ہزاروں کوس دور جاپڑے ہیں اور جو رسمی طور پر دیندار کہلاتے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب وسنّت سے الگ ہو رہے ہیں۔اپنے خیال اور رائے سے جو جی میں آتا ہے کر گذرتے ہیں اور حقیقت اور مغز کو چھوڑ کر پوست اور ہڈیوں کو لیے بیٹھے ہیں۔اس لیے خدا تعالیٰ نے اپنی سنّت کے موافق ایک عذاب بھیجا ہے کیونکہ وہ ایسی حالت میں قیامت سے پہلے اسی دنیا کو قیامت بنا دیتا ہے اور ایسی خوفناک صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں ۱ البدر میں ہے۔’’اور آج سے ایک صدسال پہلے تلاش کرو تو ایک سوکتب بھی ان کی ایسی نہ ملیں گی جو تردید اسلام میں یہاں شائع ہوئی ہوں۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴ ) ۲ البدر سے۔’’بعض دفعہ ایک ہی بار لاکھ لاکھ کتب چھا پ کر ان لوگوں نے مفت شائع کی ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴)