ملفوظات (جلد 6) — Page 64
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۴ ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے اِن اَوْلِيَا ونَ إِلَّا الْمُتَّقُونَ (الانفال : (۳۵) تقوی حقیقت میں ایک موت سے کامل طور پر جب تقوی کا کوئی مرحلہ باقی رہے تو پھر یہ اولیاء اللہ میں داخل ہو جاتا ہے اور تقویٰ حقیقت میں اپنے کامل درجہ پر ایک موت ہے کیونکہ جب نفس کے سارے پہلوؤں سے مخالفت کرے گا تو نفس مر جاوے گا۔ اس لیے کہا گیا ہے مُؤتُوا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا نفس کے توسن گھوڑے کی طرح ہوتا ہے اور جو لذت تقبل اور انقطاع میں ہوتی ہے اس سے بالکل نا آشنا ہوتا ہے۔ جب اس پر موت آجاوے گی تو چونکہ خلا محال ہے اس لیے دوسری لذات جو تقتل اور انقطاع میں ہوتی ہیں شروع ہو جائیں گی۔ یہی وہ بات ہے جس کی ہماری ساری جماعت کو ہر وقت مشق کرنی چاہیے۔ کے جیسے بچے جب تختیوں پر بار بار لکھتے ہیں تو آخر خوش نویس ہو جاتے ہیں۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا ( العنكبوت: ۷۰) میں مجاہدہ سے مراد یہی مشتق ہے کہ ایک طرف دعا کرتا رہے دوسری طرف کامل تد بیر کرے۔ آخر اللہ تعالیٰ کا فضل آجاتا ہے اور نفس کا جوش و خروش دب جاتا اور ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور ایسی حالت ہو جاتی ہے جیسے آگ پر پانی ڈال دیا جاوے۔ بہت سے انسان ہیں جو نفس اتارہ ہی میں مبتلا ہیں۔ اه البدر سے۔ ولایت کا ے۔ ”ولایت کا حصہ تقویٰ ہی پر ہے خدا تعالیٰ سے ترساں اور لرزاں ہو کر اگر اسے حاصل کرو گے تو کمال تک پہنچ جاؤ گے ۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۳) 66 البدر میں ہے۔ ”نفس ظاہری لذات کا دلدادہ ہوتا ہے پنہانی لذات سے یہ بالکل بے خبر ہے اسے خبر دار کرنے رہے دا کے لیے ضروری ہے کہ اول ظاہری لذات پر ایک موت وارد ہو اور پھر نفس کو پنہانی لذات کا علم ہو اس وقت الہی البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) وو 66 لذت جو کہ جنتی زندگی کا نمونہ ہے شروع ہوگی ۔“ سے البدر میں ہے۔ ” ہماری جماعت کو چاہیے کہ نفس پر موت وارد کرلے اور حصول تقویٰ کے لیے وہ اول مشق کریں جیسے بچے خوش خطی سیکھتے ہیں تو اول اول ٹیڑھے حرف لکھتے ہیں لیکن آخر کار مشق کرتے کرتے خود ہی صاف اور سیدھے حروف پڑنے لگ جاتے ہیں اسی طرح ان کو بھی مشق کرنی چاہیے جب خدا تعالیٰ ان کی محنت کو دیکھے گا تو خود البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) ان پر رحم کرے گا ۔ 66