ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 64

حقیقت میں اپنے کامل درجہ پر ایک موت ہے کیونکہ جب نفس کے سارے پہلوئوں سے مخالفت کرے گا تو نفس مَر جاوے گا۔اسی لیے کہا گیا ہے مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَـمُوْتُوْا۔نفس۲ تَوْسَنْ گھوڑے کی طرح ہوتا ہے اور جو لذّت تبتّل اور انقطاع میں ہوتی ہے اس سے بالکل ناآشنا ہوتا ہے۔جب اس پر موت آجاوے گی تو چونکہ خلا محال ہے اس لیے دوسری لذّات جو تبتّل اور انقطاع میں ہوتی ہیں شروع ہو جائیں گی۔یہی وہ بات ہے جس کی ہماری ساری جماعت کو ہر وقت مشق کرنی چاہیے۔۳ جیسے بچے جب تختیوں پر بار بار لکھتے ہیں تو آخرخوش نویس ہو جاتے ہیں۔وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا (العنکبوت:۷۰) میں مجاہدہ سے مراد یہی مشق ہے کہ ایک طرف دعا کرتا رہے دوسری طرف کامل تدبیر کرے۔آخر اللہ تعالیٰ کا فضل آجاتا ہے اور نفس کا جوش وخروش دب جاتا اور ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور ایسی حالت ہوجاتی ہے جیسے آگ پر پانی ڈال دیاجاوے۔بہت سے انسان ہیں جو نفسِ امّارہ ہی میں مبتلا ہیں۔۱ البدر سے۔’’ابھی تک بہت سے آدمی جماعت میں ایسے ہیں کہ تھوڑی سی بات بھی خلاف ِنفس سن لیتے ہیں تو ان کو جوش آجاتا ہے حالانکہ ایسے تمام جوشوں کو فروکرنا بہت ضروری ہے تا کہ حلم اور بردباری طبیعت میں پیدا ہو۔دیکھا جاتا ہے کہ جب ایک ادنیٰ سی بات پر بحث شروع ہوتی ہے تو ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کی فکر میں ہوتا ہے کہ کسی طرح میں فاتح ہو جاؤں ایسے موقع پر جوشِ نفس سے بچنا چاہیے اور رفعِ فساد کے لیے ادنیٰ ادنیٰ باتوں میں دیدہ دانستہ خودذلّت اختیار کر لینی چاہیے اس اَمر کی کوشش ہرگز نہ کرنی چاہیے کہ مقابلہ میں اپنے دوسرے بھائی کوذلیل کیا جاوے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۳،۴) ۲ البدر میںیوں لکھا ہے۔’’ یہ لفظ تم نے غلط لکھا ہے۔‘‘ (مرتّب) ۳البدر میں ہے۔’’ دیکھو اس نے بادشاہ ہو کر ایک غریب ملّاں کا دل نہ دکھانا چاہا۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ۴ البدر میں ہے۔’’ اپنے بھائی پر فتح پانے کا خیال رعونت کی ایک جڑ ہے اور بڑی بھاری مرض ہے کہ اپنے ایک بھائی کے عیب کے مشتہر کرنے کی ترغیب دلاتی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴)