ملفوظات (جلد 6) — Page 63
تدبیر اور دعا کا کامل اتحاد لیکن یہ نعمت نہ تو نری تدبیر سے حاصل ہوتی ہے اور نہ نری دعا سے بلکہ یہ دعا اور تدبیر دونوں کے کامل اتحاد سے حاصل ہوسکتی ہے جو شخص نری دعا ہی کرتا ہے اور تدبیر نہیں کرتا ہے وہ شخص گناہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو آزماتا ہے ایسا ہی جو نری تدبیر کرتا ہے اور دعا نہیں کرتا وہ بھی شوخی کرتا اور خدا تعالیٰ سے استغنا ظاہر کرکے اپنی تجویز اور تدبیر اور زورِبازو سے نیکی حاصل کرنی چاہتا ہے لیکن مو من اور سچے مسلمان کا یہ شیوہ نہیں وہ تدبیر اور دعا دونوں سے کام لیتا ہے۔پوری تدبیر کرتا ہے اور پھر معاملہ خدا پر چھوڑ کر دعا کرتا ہے اور یہی تعلیم قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ میں دی گئی ہے چنانچہ فرمایا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ:۵)۱ جو شخص اپنے قویٰ سے کام نہیں لیتا ہے وہ نہ صرف اپنے قویٰ کو ضائع کرتا اور ان کی بے حرمتی کرتاہے بلکہ وہ گناہ کرتا ہے مثلاً ایک شخص ہے جو کنجروں کے ہاں جاتا ہے اور اسی بدصحبت میں اپنا دن رات بسر کرتا ہے اور پھر دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! مجھے گناہ سے بچا ایسا شوخ انسان خدا تعالیٰ سے مسخری کرتا ہے اور اپنی جان پر ظلم۔اس سے اس کو کچھ فائدہ نہ ہوگا اور آخر یہ خیال کرکے کہ میری دعا سنی نہیں گئی وہ خدا سے بھی منکر ہو جاتا ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ انسان بعض اوقات تدبیر سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن تدبیر پر کلّی بھروسہ کرنا سخت نادانی اور جہالت ہے جب تک تدبیر کے ساتھ دعا نہ ہو کچھ نہیں اور دعا کے ساتھ تدبیر نہ ہو تو کچھ فائدہ نہیں جس کھڑکی کی راہ سے معصیت آتی ہے پہلے ضروری ہے کہ اس کھڑکی کو بندکیا جاوے پھر نفس کی ۱ البدر سے۔’’جو ذرائع معصیت کے ہیں ان کو ترک کرنا لازمی ہے ان ذرائع سے علیحدہ ہو نے کے بعد ایک کشاکش نفس میں رہتی ہے کہ اسے بار بار خیال اس بدی کے ارتکاب کا آتا ہے یہ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ ایک عرصہ اس میں گذار چکا ہے اس سے نجات پانے کاذریعہ دعا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ۱۹۰۴ءصفحہ۳) ۲ البدر سے۔’’جَاهَدُوْا فِيْنَا کے یہی معنے ہیں کہ حصولِ تقویٰ کے لیے حتّی الوسع تدابیر کو کام میں لاوے اور پھر دوسری جگہ اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) کہہ کر بتلا دیا کہ جب تدابیر کر چکو تو پھر خدا سے دعا مانگو وہ قبول ہوگی۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ۱۹۰۴ءصفحہ۳)