ملفوظات (جلد 6) — Page 62
۲۰؍فروری۱۹۰۴ء (دربارِشام ) اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ انسان اگر اپنے نفس کی پاکیز گی اور طہارت کی فکر کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر گناہوں سے بچتا رہے تو اللہ تعالیٰ یہی نہیںکہ اس کو پاک کر دے گا بلکہ وہ اس کا متکفّل اور متولّی بھی ہو جائے گا اور ایسے خبیثات سے بچائے گا۔۲ اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ( النور:۲۷) کے یہی معنے ہیں اندرونی معصیت، ریا کاری، عُجب، تکبّر، خوشامد، خود پسندی، بدظنی اور بدکاری وغیرہ وغیرہ خباثتوں سے بچنا چاہیے۳ اگر اپنے آپ کو ان خباثتوں سے بچاتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کو پاک ومطہّر کر دے گا۔تقویٰ اور اس کے حصول کا طریق مگر ضروری اَمریہ ہے کہ پہلے یہ سمجھ لے کہ تقویٰ کیا چیز ہے اور کیوں کر حاصل ہوتا ہے؟ تقویٰ تو یہ ہے کہ باریک در باریک پلیدگی سے بچے اور اس کے حصول کا یہ طریق ہے کہ انسان ایسی کامل تدبیر کرے کہ گناہ کے کنارہ تک نہ پہنچے اور پھر نری تدبیرہی کو کافی نہ سمجھے بلکہ ایسی دعا کرے جواس کا حق ہے کہ گداز ہو جاوے بیٹھ کر، سجدہ میں، رکوع میں، قیام میں اور تہجد میں، غرض ہر حالت اور ہر وقت اسی فکرودعا میں لگا رہے کہ اللہ تعالیٰ گناہ اور معصیت کی خباثت سے نجات بخشے اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے کہ انسان گناہ اور معصیت سے محفوظ اور معصوم ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں راست باز اور صادق ٹھہر جاوے۔تدبیر اور دعا کا کامل اتحاد لیکن یہ نعمت نہ تو نری تدبیر سے حاصل ہوتی ہے اور نہ نری دعا سے بلکہ یہ دعا اور تدبیر دونوں کے کامل اتحاد سے حاصل ۱ البدر سے۔’’ جیسے کہ خدا تعالیٰ نے تعلیم دی ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ جس کے یہ معنے ہیں کہ جو کچھ قویٰ خدا تعالیٰ نے انسان کو عطا کئے ہیں ان سے پورا کام لے کر پھر وہ انجام کو خدا کے سپردکرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ جہاں تک تو نے مجھے تو فیق عطا کی تھی اس حد تک تو میں نے اس سے کام لے لیا یہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے معنے ہیں اور پھر اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کہہ کر خدا سے امداد چاہتا ہے کہ باقی مرحلوں کے لئے میں تجھ سے استمداد طلب کرتا ہوں۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ۱۹۰۴ء صفحہ۳)