ملفوظات (جلد 6) — Page 61
چاہتا ہوں۔تو یہ رِیا اور عُجب بڑی بیماریاں ہیں۔ان سے بچنا چاہیے اور بچنے کے لیے تدابیر بھی کرنی چاہئیں اور دعا بھی کرنی چاہیے۔شیطان سے فریب کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے گھر کو آگ لگے تو وہ اپنے دوسرے حصّے مکانات کے بچانے کے لیے ایک مکان کو خودبخود گراتا ہے۔تدابیر انسان کو ظاہری گناہ سے بچاتی ہیں لیکن ایک کشمکش اندر قلب میں باقی رہ جاتی ہے اور دل ان مکروہات کی طرف ڈانواں ڈول ہوتا رہتا ہے ان سے نجات پانے کے لیے دعا کام آتی ہے کہ خدا تعالیٰ قلب پر ایک سکینت نازل فرماتا ہے۔تقویٰ ہر ایک کامیابی کی جڑ تقویٰ اورسچا ایمان ہے اسی کے نہ ہونے سے گناہ صادر ہوتے ہیں مقدر جو انسان کا ہے وہ اسے مل کر رہتا ہے پھر نہیں معلوم کہ خلاف ِتقویٰ امور کی ضرورت کیوں در پیش آتی ہے ایک چور چوری کرکے اپنا مقدر حاصل کرنا چاہتا ہے اگر وہ چوری نہ کرتا تو بھی حلال ذریعہ سے وہ اسے مل کر رہتا اسی طرح ایک زانی زناکرکے عورتوں کی لذّات حاصل کرتا ہے اگر وہ زنا نہ کرے تو جس قدر عورتوں کی لذّات اس کے لئے مقدر ہیں وہ کسی نہ کسی طرح حلال ذرائع سے اسے مل کر رہتیں، لیکن سارا فساد ایمان کا نہ ہونا ہے اگرتقویٰ پر قدم ماریں اور ایمان پر قائم رہیں کبھی کسی کو تکلیف نہ ہو اور خدا تعالیٰ سب کی حاجت روا کرتا ہے۔۱ ۱ البدر جلد ۳نمبر۹ مورخہ یکم ؍مارچ۱۹۰۴ء صفحہ ۲ ۲ البدر سے۔’’اس لیے اندرونی پلیدی کا خیال رکھو کہ وہ تمہارے سارے قلب کو پلید نہ کر دیوے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ۱۹۰۴ء صفحہ۳) ۳ البدر سے۔’’ بیباک ہو کر خدا کے احکام کو توڑنا اور شوخی اور شرارت سے اوامرکا انکار کرنا یہ بڑی خباثتیں ہیں جن سے بچنا نہایت ضروری ہے ‘‘۔(البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ۱۹۰۴ء صفحہ۳)