ملفوظات (جلد 6) — Page 60
میں ہوتا ہے جس سے خدا راضی ہو مگر نفس کے اندر ایک خواہش پنہاں ہوتی ہے کہ فلاں فلاں لوگ مجھے اچھا کہیں اس کانام رِیا ہے اور عُجب یہ کہ انسان اپنے عمل سے اپنے آپ کو اچھا جانے کہ نفس خوش ہو ان سے بچنے کی تدابیر کرنی چاہئیں کہ اعمال کا اجر ان سے باطل ہو جاتا ہے۔اس مقام پر ڈاکٹر محمد اسمٰعیل خان صاحب نے عرض کی کہ حضور شیطان سے فریب کی کوئی مثال بیان فرمائی جاوے۔چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی ذکر میں مثال یوں بیان فرمائی کہ ایک مولوی ایک جگہ وعظ کررہے تھے انہوں نے ایک دینی خدمت کے واسطے کئی ہزار روپیہ چندہ جمع کرنا تھا۔ان کی وعظ اور ضرورت دینی کو دیکھ کر ایک شخص اُٹھا اور دو ہزار روپیہ کی ایک تھیلی لاکر مولوی صاحب کے سامنے رکھ دی۔مولوی صاحب نے اسی وقت مجلس میں اس کے سامنے اس کی تعریف کی کہ دیکھو یہ بڑا نیک بخت انسان ہے اس نے ابھی اپنا گھر جنت میں بنا لیا اور یہ ایسا ہے ویسا ہے۔جب اس نے اپنی تعریف سنی تو اسی وقت گھر گیا اور جھٹ واپس آکر بآواز بلند اس نے کہا کہ مولوی صاحب اس روپے کے دینے میں مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔اصل میں یہ مال میری والدہ کا ہے اور میں اس کی بے اجازت لے آیا تھا لیکن اب وہ مطالبہ کرتی ہے۔مولوی صاحب نے کہا اچھا لے جائو۔چنانچہ وہ شخص اسی وقت روپیہ اُٹھا کر لے گیا۔یا تو لوگ اس کی تعریف کرتے تھے اور یا اسی وقت اس کی مذمت شروع کردی کہ بڑا بیوقوف ہے۔روپیہ لانے سے اوّل کیوں نہ ماں سے دریافت کیا۔کسی نے کہا جھوٹا ہے۔روپیہ دے کر افسوس ہوا تو اب یہ بہانہ بنالیا وغیرہ وغیرہ جب مولوی صاحب وعظ کرکے چلے گئے تو رات کو دو بجے وہ شخص وہ روپیہ لے کر ان مولوی صاحب کے گھر گیا اور جگا کر ان کو کہا کہ اس وقت تم نے میری تعریف کرکے سارا اجرمیرا باطل کرنا چاہا۔اس لیے میں نے شیطان کے وسوسوں سے بچنے کی یہ تدبیر کی تھی۔اب یہ روپیہ تم لو مگرتم سے قسمیہ عہد لیتا ہوں کہ عمر بھر میرا نام کسی کے آگے نہ لیناکہ فلاں نے یہ روپیہ دیا۔اب وہ مولوی حیران ہوا اور کہا کہ لوگ تو ہمیشہ لعنت کرتے رہیں گے اور تم کہتے ہو کہ میرا نام نہ لینا۔اس نے کہا مجھے یہ لعنتیں منظور ہیں مگر رِیا سے بچنا