ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 57

ایک عبد اللطیفؓ کا ہی نمونہ دیکھ لو کہ جس حالت میں اس نے جان جیسی عجیب شَے سے دریغ نہ کیا تو اب جان کے بعد اس پر کیا نکتہ چینی کرسکتے ہیں۔خواہ کوئی ہزار پر دہ ڈالے مگر ان کی استقامت پر شک نہیں ہوسکتا۔بیوی بچوں، مال وجاہ کی پر وا نہ کرنا اور یہاں سے جاکر ان میں سے کسی سے نہ ملنا ایسی استقامت ہے کہ سن کر لرزہ آتا ہے۔دنیا میں بھی اگر ایک نوکر خدمت کرے اور حق وفا کا ادا کرے تو جو محبت اس سے ہو گی وہ دوسرے سے کیا ہوسکتی ہے جو صرف اس بات پر ناز کرتا ہے کہ میں نے کوئی اچک پنا نہیں کیا حالانکہ اگر کرتا تو سزا پاتا۔اتنی بات سے حقوق قائم نہیں ہوسکتے۔حقوق تو صرف صدق و وفا سے قائم ہوسکتے ہیں جیسے اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤى (النجم:۳۸)۱ ۱۱؍فروری ۱۹۰۴ء (بوقتِ شام) حضرت سیّد احمد سرہندی علیہ الرحمۃ کا تذکرہ فرمایا۔سیّد احمد صاحب سرہندی کا ایک خط ہے جس میں انہوں نے بتلایا ہے کہ اس قدر احمد مجھ سے پیشتر گزر چکے ہیں اور ایک آخری احمد ہے۔پھر آپ نے اس کی ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے اور خود اس کے زمانہ سے پیشتر ہونے پر افسوس کیا ہے اور لکھا ہے یَا اَسَفًا عَلٰی لِقَائِہٖ۔پھر فرمایا کہ ان کا ایک قول میرے نزدیک درست نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کرا مات اس وقت صادر ہوتی ہیں جب کہ سالک اِلَی اللہ کا صعود تو اچھا ہو مگر نزول اچھا نہ ہو اور اگر نزول بھی اچھا ہو تو پھر کرامات صادر نہیں ہوتیں۔گویا کرامات کے صدور کا وہ ادنیٰ درجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے جس قدر انبیاء آئے ہیں ان سے بارش کی طرح کرامات صادر ہوتی رہی ہیں۔ان کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی پردہ پوشی کرتے ہیں اور خود ان کو اس کوچہ میں دخل نہیں تھا۔فتوح الغیب کو اگر دیکھاجاوے توبہت سیدھے سادھے رنگ میں سلوک اور توحید کی راہ بتلائی ۱ البدر جلد ۳نمبر۸مورخہ۲۴؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۲