ملفوظات (جلد 6) — Page 57
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۷ صدق و وفا سے قائم ہو سکتے ہیں جیسے اِبْراهِيمَ الَّذِي وَلَّى (النجم : ۳۸) ۱۱ فروری ۱۹۰۴ء (بوقت شام) فرمایا۔ سید احمد صاحب سرہندی کا حضرت سید احمد سر ہندی علیہ الرحمۃ کا تذکرہ ایک خط ہے جس میں انہوں نے جلایا ہے کہ اس قدر احمد مجھ سے پیشتر گزر چکے ہیں اور ایک آخری احمد ہے۔ پھر آپ نے اس کی ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے اور خود اس کے زمانہ سے پیشتر ہونے پر افسوس کیا ہے اور لکھا ہے یا أَسَفًا عَلَى لِقَائِهِ۔ پھر فرمایا کہ ان کا ایک قول میرے نزدیک درست نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کرامات اس وقت صادر ہوتی ہیں جب کہ سالک الی اللہ کا صعود تو اچھا ہو مگر نزول اچھا نہ ہو اور اگر نزول بھی اچھا ہو تو پھر کرامات صادر نہیں ہوتیں ۔ گویا کرامات کے صدور کا وہ ادنی درجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے جس قدر انبیاء آئے ہیں ان سے بارش کی طرح کرامات صادر ہوتی رہی ہیں۔ ان کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی پردہ پوشی کرتے ہیں اور خود ان کو اس کو چہ میں دخل نہیں تھا۔ فتوح الغیب کو اگر دیکھا جاوے تو بہت سیدھے سادھے رنگ میں سلوک اور توحید کی راہ بتلائی ہے ۔ شیخ عبد القادر جیلانی" قائل ہیں کہ جو شخص ایک خاص تعلق اور پیوند خدا سے کرتا ہے اس سے ضرور مکالمہ الہی ہوتا ہے۔ یہ کنایت ایک اور رنگ میں ان کے اپنے سوانح معلوم ہوتے ہیں جیسے جیسے خدا کا فضل ان پر ہوتا رہا اور وہ ترقی مراتب کرتے رہے ویسے ویسے بیان کرتے رہے۔ صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد کا نیک بچپن حضرت اقدس کے صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے مسجد میں آگئے اور اپنے ابا جان کے پاس ہو بیٹھے اور اپنے لڑکپن کے باعث کسی بات کے یاد آجانے پر البدر جلد ۳ نمبر ۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۲