ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 56

ایک صحابی کا ذکر ہے کہ اس کے ایک تیر لگا اور اس سے خون جاری ہو گیا۔اس نے دعا کی کہ اے اللہ عمر کی تو مجھے کوئی غرض نہیں ہے۔البتہ میں یہود کا انتقام دیکھنا چاہتا تھا جنہوں نے اس قدر اذیتیں اور تکلیفیں دی ہیں۔لکھا ہے کہ اسی وقت اس کا خون بند ہو گیا جب تک کہ وہ یہود ہلاک نہ ہوئے اور جب وہ ہلاک ہو گئے تو خون جاری ہو گیا اور اس کا انتقال ہوگیا۔۱ حقیقت میں سب امراض اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔کوئی مرض اس کے حکم کے بغیر پیش دستی نہیں کرسکتا۔اس لیے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرے۔یہی اقبال کی راہ ہے مگر افسوس ہے جن راہوں سے اقبال آتا ہے ان کو انسان بد ظنّی کی نظر سے دیکھتا ہے اور نحوست کی راہوں کو پسند کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر گرِجاتا ہے۔۱،۲ ۹؍فروری ۱۹۰۴ء (قبل از عشاء ) صاحبزادہ عبد اللطیفؓ کا نمونہ عشاء سے پیشتر آپ نے مجلس فرمائی اور فرمایا کہ کمال کے ساتھ عیوب جمع نہیں ہوسکتے۔اس زمانہ میں ۱ البدر میں مزید لکھا ہے۔اس زمانہ میں مومن کا فرض ’’میرا مذہب یہ ہے کہ اگرچہ بہت لوگوں نے اس باطل کی تردید میں آزادانہ مضامین بھی لکھے ہیں مگر ابھی تک یہ حالت ہے جیسے سفید بیل کی کھال پر کوئی ایک بال سیاہ ہو کیونکہ قومی تعصّب نے گھر کیا ہو اہے۔اگر کوئی نیک بخت انگریز ہو اور وہ اسلامی شعار کا قائل ہو تو اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرسکتا اور یہ فتنہ اس قدر بڑھ گیا ہو اہے کہ اگر کل درخت قلمیں بن جاویں تو بھی اُسے کفایت نہیں کرسکتیں۔دُنیا کا وہ حصّہ جوکہ وحشیانہ زندگی بسر کرتا ہے چھوڑ کر باقی میں نصف کے قریب عیسائی ہیں۔اب اس وقت ہر ایک مومن کا کام یہ چاہیے کہ جب تک دم میں دم ہے اس باطل مذہب کا مقابلہ کرتا رہے اور اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۸مورخہ۲۴؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۲) ۲الحکم جلد ۸نمبر۶ مورخہ۱۷؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۵،۶