ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 45

آپ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے فرمایا کہ اگر ہم سے اجتہاد میں غلطی ہو جاوے توحرج کیا ہے؟ اجتہاد اَور شَے ہے اور تفہیمِ الٰہی اَور شَے۔اگر ہم نے ایک معنی اپنی رائے اور فکر سے کر دئیے تو آخر اپنے وقت پر خدا تعالیٰ نے اصل اور حقیقی معنے بتلادیئے۔اس الہام میں یہ الفاظ بھی لکھے ہیں عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَيْـًٔا وَّ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ اب دیکھنا چاہیے کہ کیا احمد بیگ جیسے منکرین کی زندگی ہماری محبوبات سے تھی یا مکروہات سے؟ اگر ہماری کوئی غلطی ہو تو اس میں تنقیح طلب یہ اَمر ہے کہ آیا ایسی غلطیاں انبیاؤوں سے ہوتی رہیں کہ نہیں۔جیسے کہ خواب میں ابوجہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انگور کا خوشہ دیا تو آپ نے اس کے یہ معنے سمجھے کہ ابو جہل کسی وقت مسلمان ہو جاوے گا لیکن وہ تو مسلمان نہ ہوا۔آخر عکرمہ اس کا بیٹا جب مسلمان ہوا تو خواب کے معنے پورے طور پر سمجھ میں آئے۔سلسلہ کی صداقت ایک مفتری کی زندگی حباب کی طرح ہوتی ہے لیکن ہمارے سلسلہ میں سچائی کی خوشبو ہے کہ نہ واعظ ہیں (نہ کانفرنسیں جو مختلف مقاموں پر ہوتی ہیں) نہ لیکچرار ہیں۔لیکن ہماری صداقت خود بخود لوگوںکے دلوں میں پڑتی جاتی ہے۔ان لوگوں نے بہتیرا واویلا کیا اور روکتے رہے اور اب بھی کرتے اور روکتے ہیں لیکن پھر بھی ہمارا کچھ بگاڑ نہ سکے۔اب باریک نظر سے غور سے دیکھو تو ہمارا سلسلہ دن بہ دن ترقی کر رہا ہے اور یہی نشانی ہے اس بات کی کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو ہمارے مخالف آج تک کب کے کامیاب ہو جاتے۔ہم یہاں چپ چاپ بیٹھے ہیں کسی تدبیر اور ایسی طاقت سے کام نہیں لیتے کہ اثر انداز ہو۔نہ دورے لگا رہے ہیں نہ کچھ۔مگرتا ہم ایک حرکت شروع ہے۔روز جو ڈاک آتی ہے شاذ و نادر ہی کوئی ایسا دن ہو تو ہو ورنہ ہر روز بِلاناغہ بیعت کے خطوط آتے ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں چڑھتا کہ اس میں کوئی نہ کوئی بیعت کے لیے طیاری نہ کرتا ہو۔