ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 46

تین قسم کے لوگ فرمایا کہ اس وقت تین قسم کے لوگ ہیں۔ایک وہ جو بغض وحسد میں جلے ہوئے ہیں اور ضد اور تعصّب سے مخالفت پر آمادہ ہیں۔ان کی تعداد تو بہت ہی کم ہے۔دوسرے وہ جو اس طرف رجوع کرتے ہیں ان کی تعداد ترقی پر ہے۔تیسرے وہ جو خاموش ہیں نہ اِدھر ہیں نہ اُدھر۔ان کی تعداد کثیر ہے وہ ملّانوں کے زیر اثر نہیں ہیں ورنہ ان کے ساتھ مل کر سبّ وشتم کرتے۔پس اس لیے وہ ہماری مدّ میں ہیں۔فرقہ معاندین کی افادیت یہ فرقہ جومعاندین کا ہے اگر نہ ہوتا تو چپ رہنے والے اصل میں کوئی شَے نہیں ہیں انہیں کی وجہ سے تحریک ہوتی ہے وہ شور ڈال ڈال کر ان لوگوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔ان کی باتوں میں چونکہ آسمانی تائید نہیں ہوتی اس لیے تناقض ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کچھ فرماتا ہے اور یہ کچھ کہتے ہیں۔قال کچھ ہے حال کچھ ہے۔آخر شور شرابا سن کر بعض کو تحریک ہوتی ہے کہ دیکھیں تو سہی ہے کیا۔پھر جب وہ تحقیق کرتے ہیں تو حق ہماری طرف ہوتا ہے آخر ان کو ماننا پڑتا ہے معاندین ہم پر کیا کیا الزام لگاتے ہیں۔کہیں کہتے ہیں کہ یہ پیغمبروں کو گالیاں دیتے ہیں۔کہیں کہتے ہیں کہ نماز روزہ وغیرہ ادا نہیں کرتے۔آخر تنقید پسند طبائع ان باتوں سے فائدہ اُٹھا کر ہماری طرف رجوع کرتے ہیں۔اس جماعت معاندین کے ہونے سے ہمارا برسوں کا کام دنوں میں ہورہا ہے۔لوگ آگے ہی منتظر ہیں وقت خود شہادت دے رہا ہے اور ان کی آنکھیں اس طرف لگی ہوئی ہیں کہ آنے والا آوے۔جب یہ معاندین ایک مفتری کے رنگ میں ہمیں پیش کرتے ہیں تو تحقیق کرتے کرتے خود حق پالیتے ہیں۔۱۱البدر جلد ۳نمبر۷مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ۳،۴نیز الحکم جلد ۸نمبر۶مورخہ۱۷؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ۳