ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 36

قرآن شریف میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ (الانعام:۱۲۵) اس سوال کا آخر ماحصل یہ ہے کہ وہ ہمیں مفتری کہیں گے مگر پھر ان پر سوال ہوتا ہے کہ عجب خدا ہے کہ اس قدر عرصہ دراز سے برابر افترا کا موقع دئیے چلا جاتا ہے اور جو کچھ ہم کہتے ہیں وہی وقوع میں آتا ہے۔اگر مفتریوں کے ساتھ خدا کے یہ سلوک ہیں اور اس طرح سے ان کی تائید اور نصرت کی جاتی ہے جیسے کہ ہماری تو پھر کل انبیاء کو بھی انہیں مفتری قرار دینا پڑے گا۔وہی علامات اور براہین جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں آپ کی صداقت کے نشان اور دلیل تھے وہی اب بھی موجود ہیں جسے خدا تعالیٰ منتخب کرے اگر وہ اس کی تعریف نہ کرے تو کیا گندا کہے؟اس سے خدا پر حرف آتا ہے کہ اس کا انتخاب گندا ٹھہرتا ہے۔اگر دنیا کے مجازی حکامِ اعلیٰ کو بھی دیکھو تو وہ بھی حتی الوسع کمشنری، لفٹینٹی، ڈپٹی کمشنری وغیرہ کے عہدوں کے لیے انہیں کو انتخاب کرتے ہیں جو کہ ان کی نظر میں لائق ہوتے ہیں۔اگر وہ حکّامِ اعلیٰ کی نظر میں نالائق اور ذمہ داریوں کی بجاآوری کے ناقابل ہوں تو انتخاب نہیں کئے جاتے۔پس اسی طرح مامورین وغیرہ خدا تعالیٰ کی نظروں میں نالائق اور نکمّے اور اشقیاء ہوں تو پھر لوگوں کو مزکّی بنانے کی خدمت ان سے کیسے لی جاوے۔یہ ایک نکتہ ہے کہ ان کا جو اعتراض ہوتا ہے وہ صرف میری ذات پرنہیں ہوتا بلکہ عام ہوتا ہے کہ آدم سے لے کر جس قدر نبی اس وقت تک گذرے ہیں۔سب اس میں شامل ہوتے ہیں۔بھلا وہ ایک اعتراض کرکے تو دکھلاویں جو سابقہ انبیاء میں سے کسی پر نہ ہوا ہو۔اصل بات یہ ہے کہ ایمان کے لوازم تمام اس وقت ردّی ہوگئے تھے۔دل حلاوت ایمان سے خالی ہیں۔دنیا کی زیب وزینت کے خیال نے دلوں پر تصرّف کر لیا ہے ایک گہرے بحرِ ظلمات میں لوگ پڑے ہوئے ہیں۔اس وقت بڑی ضرورت اور احتیاج اس اَمر کی ہے کہ وہ تقویٰ جس کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور کتاب اللہ نازل ہوئی،حاصل ہو۔ایک مُردہ ایمان لوگوں کے پاس ہے۔اس لیے اس ایمان کی کوئی نشانی بھی ہاتھ میں نہیں ہے اور اسی باعث سے یہ وبال ان لوگوں پر ہے۔پھر کہتے