ملفوظات (جلد 6) — Page 35
۳۰؍جنوری۱۹۰۴ء (بعد نماز مغرب) خدا تعالیٰ پر سچے ایمان کی ضرورت طاعون کا ذکر ہوتا رہا کہ اب فروری کا مہینہ آگیا ہے اس کا زور ہوگا چنانچہ مختلف مقامات سے اس کی خبریں آنی شروع ہو گئی ہیں۔فرمایا کہ ضروری بات خدا شناسی ہے کہ خدا کی قدرت اور جزا سزا پر ایمان ہو۔اسی کی کمی سے دنیا میں فسق و فجور ہو رہا ہے لوگوں کی توجہ دنیا کی طرف اور گناہوں کی طرف بہت ہے دن اور رات یہی فکر ہے کہ کسی طرح دنیا میں دولت، وجاہت، عزّت ملے۔جس قدر کوشش ہے خواہ کسی پیرایہ میں ہی ہو مگر وہ دنیا کے لیے ہے خدا کے لیے ہرگز نہیں۔دین کا اصل لُب اور خلاصہ یہ ہے کہ خدا پر سچا ایمان ہو مگر اب مولوی وعظ کرتے ہیں تو ان کے وعظ کی بھی علّتِ غائی یہ ہوتی ہے کہ اسے چار پیسے مل جائیں جیسے ایک چور باریک در باریک حیلے چوری کے لیے کرتا ہے ویسے ہی یہ لوگ کرتے ہیں ایسی حالت میں بجُز اس کے کہ عذابِ الٰہی نازل ہو اور کیا ہوسکتا ہے۔ایک اعتراض ہم پر یہ ہوتا ہے کہ اپنی تعریف کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مُطہَّرو بر گزیدہ قرار دیتے ہیں۔اب لوگوں سے کوئی پوچھے کہ خدا تعالیٰ جو اَمر ہمیں فرماتا ہے کیا ہم اس کی نافرمانی کریں۔اگر ان باتوں کا اظہار نہ کریں تو معصیت میں داخل ہو۔قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کیا کیا الفاظ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شان میں فرمائے ہیں۔ان لوگوں کے خیال کے مطابق تو وہ بھی خود ستائی ہو گی۔خود ستائی کرنے والا حق سے دور ہوتا ہے مگر جب خدا تعالیٰ فرمائے تو پھر کیا کیا جائے۔یہ اعتراض ان نادانوں کا صرف مجھ پر ہی نہیں ہے بلکہ آدم سے لے کر جس قدر نبی، رسول، اَزکِیا اور مامور گزرے ہیں۔سب پر ہے۔ذرا غور کرنے سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ جسے خدا تعالیٰ مامور کرتا ہے ضرور ہے کہ اس کے لیے اجتبا اوراصطفا ہو اور کچھ نہ کچھ اس میں ضرور خصوصیت چاہیے کہ خدا تعالیٰ کل مخلوق میں سے اسے بر گزیدہ کرے۔خدا کی نظر خطا جانے والی نہیں ہوتی۔پس جب وہ کسی کو منتخب کرتا ہے وہ معمولی آدمی نہیں ہوتا۔