ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 34

اس سے یہ مطلب میرا نہیں ہے کہ وہاں کے لوگ ضرور مان لیں، کوئی مانے نہ مانے، ہمارا مقصود کان تک آواز کو پہنچا دینا ہے بہت لوگ ہیں کہ اب تک گالیاں دیتے ہیں۔عیسیٰ علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کو گالیاں دینے والے اب تک موجود ہیں۔پس اگر وہ بھی بجائے فائدہ اٹھانے کے گالیاں دیویں تو کون سا تعجب ہے۔افسوس آتا ہے کہ ہم نے کون سی ایسی بات کی ہے جس پر یہ حملہ کیا جاتا ہے۔دو شَے تھیں۔ایک کتاب اللہ و سنّت اللہ دوسرے احادیث صحیحہ۔کتاب اللہ ہر صورت میں مقدم ہے۔احادیث کی عظمت یہاں تک ہمارے نزدیک ہے کہ خفیف سے خفیف حدیث پر بھی ہم عمل کرتے ہیں بشرطیکہ خلاف کتاب اللہ نہ ہو۔اب غور کا مقام ہے کہ اگر احکام وغیرہ میں نسخ ہو تو ہو سکتا ہے۔بھلا قصّوں میں نسخ کا ہونا کب ممکن ہے۔اس صورت میں اگر قرآن شریف ایک واقعہ کو بیان کرے اور حدیث اس کا انکار کرے تو یہ بات کب مانی جا سکتی ہے کہ حدیث درست ہو۔جیسے وفاتِ مسیح کا ایک واقعہ ہے کہ جسے قرآن شریف نے بیان کیا ہے۔لیکن الحمد للہ کہ احادیث وفاتِ مسیح میں قرآن کی موافق ہیں مخالف نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کبھی یہ لفظ نہیں نکلا کہ مسیح آسمان پر اُڑ گیا۔پھر جبکہ اس کا صعود بھی ثابت نہیں تو نزول کس کا ہو۔پھر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ کھول کر وفات ثابت کر رہی ہے۔اگر وہ دوبارہ دنیا میں آکر رہے تو اب اپنے علم اور آنے کو کیوں چھپاتے ہیں کہ خدا کے سامنے لا علمی بیان کرتے ہیں۔پس آیت نے صرف یہی نہیں کیا کہ وفات ثابت کر دی بلکہ دوبارہ آنے کا بھی ثبوت دے دیا ہے پھر بخاری اور مسلم میں مِنْکُمْ ہے قرآن میں بھی مِنْکُمْ ہے کہ آنے والا تمہارے اندر سے ہی آوے گا ان لوگوں میں تقویٰ ہی نہیں ہے اگر تھوڑا سا بھی تقویٰ لے کر آویں تو اور ہمارے دعاوی کو سنیں تو شاید ہدایت ہو۔۱۱البدر جلد ۳ نمبر ۴ مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۳۹